سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیر والٹز کو معزول کر کے ان کی جگہ رمارکووبیو کو عارضی طور پر قومی سلامتی کا مشیر بنا دیا ہے۔ مارکو روبیو بدستور وزیر خارجہ کی ذمہ داری بھی سنبھالتے رہیں گے۔
امریکہ کی نیوز آؤٹ لیتس ور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں قومی سلامتی کے مشیر (National Security Advisor) والٹز کی برطرفی کو صدر ٹرمپ کے ساتھیوں کے اندرونی دائرے کی پہلی بڑی تبدیلی ہ کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔
انترنیشنل نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سگنل سکینڈل پر قومی سلامتی کے مشیر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
پینتاگون کی انتہائی حساس اور کلاسیفائیڈ دستاویزات کو قومی سلامتی کے مشیر والٹز کی جانب سے اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ میسیجنگ ایپلی کیشن سگنل پر شئیر کر کے انہیں اس ایپلی کیشن پر میسیجنگ کے ذریعہ ڈسکس کرنے کے واقعہ کو "سگنل سکینڈل" کا نام دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ قومی سلامتی کے مشیر کے عہدہ سے ہٹائے جانے کے باوجود والٹز کو اپنی ٹیم میں شامل رکھیں گے، وہ والٹز کو اقوام متحدہ میں سفیر نامزد کریں گے۔
ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ وہ والٹز کو اقوام متحدہ میں امریکہ کا اگلا سفیر نامزد کریں گے، انہوں نے مزید کہا کہ "انہوں نے ہماری قوم کے مفادات کو اولیت دینے کے لیے سخت محنت کی ہے۔"
اس سے پہلے جمعرات کو متعدد ذرائع نے بتایا تھا کہ ٹرمپ نے والٹز کو وائٹ ہاؤس کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹرمپ کا روبیو کو عارضی طور پر والٹز کی جگہ لینے کے لیے منتخب کرنا 1970 کی دہائی میں ہنری کسنجر کے بیک وقت وزیر خٓرجہ ور نیشنل سکیورٹی ایدوائزر رہنے کے بعد پہلا موقع ہو گا کہ ایک شخص بیک وقت سیکرٹری آف سٹیٹ اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر دونوں عہدوں پر فائز ہوا ہے۔
"جب مجھے کوئی مسئلہ ہوتا ہے، میں مارکو کو فون کرتا ہوں، وہ اسے حل کر دیتا ہے،" ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے ایک پروگرام میں کہا تھا۔
امریکہ میں وائٹ ہاؤس کی ٹیم میں قومی سلامتی کا مشیر ایک طاقتور کردار ہے۔ اس عہدہ پر تقرر کے لئے سینیٹ کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ٹرمپ کے صدر کی حیثیت سے پہلے دور میں چار قومی سلامتی کے مشیر باری باری رہےتھے: مائیکل فلن، ایچ آر میک ماسٹر، جان بولٹن اور رابرٹ اوبرائن۔
آج سبکدوش کئے جانے والے این ایس اے والٹز، ایک ریٹائرڈ آرمی گرین بیریٹ اور فلوریڈا سے سابق ریپبلکن قانون ساز ہیں۔ ان کو وائٹ ہاؤس کے اندر تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب وہ مارچ میں ایک اسکینڈل میں پھنس گئے۔ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے اعلیٰ معاونین کے درمیان سگنل چیٹ لیک ہو گئی تھی اور اس مواد کو لے کر میڈیا مین سخت تنقید کی گئی تھی۔
ایک انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ والٹز کے ساتھ ان کے نائب، الیکس وونگ، جو کہ ایک ایشیا کے امور کے ماہر ہیں، جو ٹرمپ کے پہلے دور میں شمالی کوریا پر توجہ مرکوز کرنے والے محکمہ خارجہ کے اہلکار تھے، ان کو بھی ان کے عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔

والٹز کی بے دخلی نے ٹرمپ کی قومی سلامتی کی اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک ماہ ک سے جاری اکھاڑ پچھاڑ کا بظاہر اختتام کر دیا ہے۔ یکم اپریل سے، NSC کے کم از کم 20 اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے، نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر کو برطرف کر دیا گیا ہے اور پینٹاگون کے تین اعلیٰ سیاسی تقرریوں کو دروازہ دکھا دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے اندر یا اس کے قریبی عہدیداروں کے مطابق، اس بہت زیادہ صفایا نے قومی سلامتی کی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ شعبوں میں کام کرنے والوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ حکومت کے کچھ عناصر متعلقہ قومی سلامتی کی مہارت سے کم ہیں اور بعض صورتوں میں اعلیٰ سطح کے ٹیلنٹ کو راغب کرنا مشکل ثابت ہوا ہے۔
اہلکاروں کی بہت سی برطرفیاں وزیر دفاع کی طرف سے سامنے آئیں، جنہیں اپنی ٹیم منتخب کرنے کے بعد اس میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔