ڈونلڈ ٹرمپ زدہ امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں جنگ زدہ اتحادی ملک کے مہمان صدر زیلنسکی کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور انہیں دھمکیاں دی گئین لیکن لندن میں لیبر پارٹی کے پرائم منسٹر سٹارمر نے اپنی بساط سے برھ کر یوکرین کے صدر کی خدمت مین پیش کر دیا۔ آج لندن مین صدر زیلنسکی اور پرائم منسٹر سٹارمر کی ملاقات میں دو بلین اسی کروڑ ڈالر قرض یوکرین کو دینے کے معاہدہ پر دستخط ہوئے۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے آج وزیراعظم سر کیئر سٹارمر سے ملاقات کی جس نے زیلنسکی اور ان کے جنگ زدہ عوام کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بدتمیزی کے تلخ اثر سے نکلنے میں یقیناً مدد دی ہو گی۔
وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی بدتمیزی کو بھگتنے کے ایک روز بعد صدر زیلنسکی برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے لندن پہنچے جہاں وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے گلے لگا کر ان کا استقبال کیا۔
خبر ایجنسی کےمطابق 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی پرائم منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر میں یوکرینی صدر کا سر سٹارمر نے کھلے بازؤں کے ساتھ گرم جوشی سے استقبال کیا۔ انہیں خوب تعظیم دی، دوستانہ انداز سے گھل مل کر باتیں کیں، اور پھر یوکرین کے عوام کو درکار یونے تین ارب ڈالر بھی فراہم کرنے کا معاہدہ کر لیا۔
صدر زیلنسکی نے ملاقات کے بعد کہا کہ انگلینڈ کا فراہم کیا ہوا قرض یوکرین میں ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا۔
وزیراعظم سٹارمر سے ملاقات میں زیلنسکی نے کہا، یوکرین کی حمایت پر آپ کا اور برطانوی عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، بادشاہ شاہ چارلس نے کل میری ملاقات کو قبول کیا، اس کے لیے بھی شکریہ اور شکر گزار ہوں۔
زیلنسکی نے کہا کہ اتنی بڑی یورپی سربراہی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے، یوکرین کے لوگ خوش ہیں کہ ہمارے پاس ایسے سٹریٹجک شراکت دار موجود ہیں۔