ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مجرموں کو ہاتھ یا پاؤں کاٹنے کی سزائیں دیں، بھارتی جج کے ریمارکس پر ’’رولا‘‘ پڑ گیا

مجرموں کو ہاتھ یا پاؤں کاٹنے کی سزائیں دیں، بھارتی جج کے ریمارکس پر ’’رولا‘‘ پڑ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی کرناٹک ہائیکورٹ کے ایک جج کے سخت سزاؤں سے متعلق ریمارکس نے قانونی اور عوامی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ زیادتی کے ایک ملزم کی ضمانت درخواست مسترد کرتے ہوئے جج نے مشرقِ وسطیٰ (عرب ممالک) طرز کی سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایسا نہیں۔ اگر ہاتھ یا پاؤں کاٹ دیئے جائیں تو شاید لوگ قانون کی پابندی کرنا سیکھں ، ان ریمارکس پر  سوشل میڈیا پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کےمطابق کرناٹک ہائیکورٹ نے حال ہی میں ایک23 سالہ ریپ کے ملزم کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران جرم اور سزا سے متعلق متنازع ریمارکس دیئے۔ جسٹس آر نتراج نے کہا کہ مجرموں کو جرائم سے باز رکھنے کیلئے شاید زیادہ سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔ یہ خبر بار اینڈ بینچ نے رپورٹ کی ہے۔ منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی  کے طالب علم گوپی ریڈی کارتھک ریڈی، جو 5اپریل سے عدالتی حراست میں ہے، کو فوری ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے جسٹس نتراج نے ریمارکس دیئے کہ موجودہ سزائیں مجرموں کو خوفزدہ کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بعض مشرقِ وسطیٰ (عرب ممالک )کے ممالک میں دی جانے والی سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’قانون اپنی طاقت کھو چکا ہے کیونکہ ہم مجرموں کے ساتھ سختی سے پیش نہیں آتے۔ اسی لئے جرم کرنا اتنا آسان ہو گیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایسا نہیں۔ اگر ہاتھ یا پاؤں کاٹ دیئے جائیں تو شاید لوگ قانون کی پابندی کرنا سیکھیں۔ چونکہ ہمارے پاس جمہوریت ہے، اس لئےہر شخص اسے معمولی سمجھنے لگا ہے‘‘۔ 

  کرناٹک ہائیکورٹ نے ملزم کو فوری طور پر رہا کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے کہا کہ’’اگر نمک کھایا ہے تو پانی بھی پینا ہوگا۔ اسے مزید چار پانچ دن جیل میں رہنے دیں، تاکہ اسے جیل کی عادت ہو جائے۔کون جانتا ہے، اگر سزا ہو گئی تو شاید دوبارہ واپس آنا پڑے‘‘۔عدالت نے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 8جون کو مقرر کی۔ استغاثہ کے مطابق شکایت کنندہ خاتون اور ملزم منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ہم جماعت تھے۔ خاتون کا الزام ہے ک12 ستمبر2023 کو ملزم نے تعلقات پر بات چیت کے بہانے اسے اپنے فلیٹ پر بلایا اور وہاں اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ خاتون نے مزید کہا کہ اس واقعے کے باعث وہ شدید ذہنی صدمے اور ڈپریشن کا شکار ہوئیں، جس کا علاج بھی کروانا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے قومی کمیشن برائے خواتین سے رجوع کیا اور پولیس میں شکایت درج کرائی۔ 

زیادتی کا مقدمہ وویمن پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا۔ ملزم نے الزامات کی تردید کی ہے۔ اس کے وکیل کا مؤقف ہے کہ شکایت ایک ایسے واقعے سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر تقریباً تین سال قبل پیش آیا تھا اور مسلسل حراست اس کے مستقبل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جج کے ریمارکس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی، جہاں متعدد صارفین نے کہا کہ اس نوعیت کی سزائیں آئین اور جدید قانونی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ایک صارف نے لکھا’’ہائیکورٹ حمورابی کے ضابطۂ قانون کی وکالت کیسے کر سکتی ہے؟ ہم صدیوں پہلے انتقامی انصاف کے تصور سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر اس سے بھی زیادہ تشویشناک لگتا ہے ‘‘۔ایک اور صارف نے کہا:’’نہیں، آئین اور فوجداری قوانین ایسی وحشیانہ سزاؤں کی اجازت نہیں دیتے‘‘۔  کچھ دیگر صارفین نے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ’’ہمارے ملک میں عدالتوں اور ججوں کی سطح یہی رہ گئی ہے۔ قوانین تو بہت ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سسٹم کے ہر درجے میں بدعنوانی موجود ہے ‘‘۔