عرفان ملک: پنجاب حکومت نے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو نئی قائم ہونے والی پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ اس حوالے سے پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی ایکٹ 2025 نافذ کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق نئے قانون کے نفاذ کے بعد سابقہ 2007 کا قانون منسوخ تصور ہوگا اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے تمام ملازمین نئی اتھارٹی میں منتقل ہو جائیں گے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملازمین کی سروس، حقوق اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی۔ ملازمین کو ایک مرتبہ یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ وہ نئی اتھارٹی میں خدمات جاری رکھنا چاہتے ہیں یا اپنے اصل محکموں میں واپس جانا چاہتے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق خودمختار فرانزک اتھارٹی کے قیام سے انتظامی اور مالیاتی فیصلوں میں تیزی آئے گی، جبکہ فرانزک لیبارٹریز، کرائم سین مینجمنٹ اور تحقیقاتی خدمات ایک مربوط نظام کے تحت کام کریں گی۔
نئے نظام کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی معیار کے فرانزک نظام کے فروغ میں مدد ملے گی، جبکہ جرائم کی تفتیش میں شفافیت اور سائنسی شواہد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی اتھارٹی کے قیام سے عدالتی مقدمات میں فرانزک رپورٹس کے معیار اور رفتار میں بہتری آئے گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات مزید مؤثر بن سکیں گی۔
نئے قانون کے تحت وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کی چیئرپرسن ہوں گی۔