احمد منصور:بھارت میں مودی حکومت کی جانب سے ایک اور متنازعہ اقدام سامنے آ گیا ہے جس کے تحت ممبئی شہر میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینا ممکن نہیں رہا جسے مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
ممبئی کے مسلمانوں نے اذان سننے کے لیے اب ’آن لائن اذان‘ موبائل ایپ کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے جو کہ تامل ناڈو کی ایک کمپنی کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ یہ ایپ پانچ وقت کی اذان کی اطلاع دیتی ہے،نماز کے اوقات یاددہانی کے طور پر نوٹیفکیشن بھیجتی ہے، باجماعت نماز کے لیے نمازیوں کو کال الرٹس بھی دیتی ہے اور مساجد کا ڈیجیٹل رجحان کی طرف رجوع بھی ہے۔
ممبئی کی متعدد مساجد نے اب اس ایپ پر اپنا رجسٹریشن بھی مکمل کر لیا ہے۔ یہ ایک مجبوری کے تحت لیا گیا قدم ہے تاکہ اذان اور نماز کے اوقات سے متعلق معلومات موبائل کے ذریعے عوام تک پہنچائی جا سکیں۔
ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کے مطابق شہر کو مکمل طور پر لاؤڈ اسپیکر سے پاک کر دیا گیا ہے تمام مذہبی مقامات سے پبلک ایڈریس سسٹمز ہٹانے کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔
کیا یہ اقدام مذہبی شناخت ختم کرنے کی کوشش ہے؟
ماہرین اور مسلم حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف شور کم کرنے کا اقدام نہیں بلکہ مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو دبانے کی ایک اور منظم کوشش ہے۔ بھارت میں مذہبی آزادی کا حق آئینی طور پر ہر شہری کو حاصل ہے مگر پے در پے اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی سرکار بھارت کو ایک مخصوص مذہب کی ریاست بنانے کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔