ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جاوید اخترنے ٹوپی والی ویڈیو کو بکواس قرار دیدیا، وائرل کرنیوالوں کو دھمکی

جاوید اخترنے ٹوپی والی ویڈیو کو بکواس قرار دیدیا، وائرل کرنیوالوں کو دھمکی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کے  مشہور شاعرو نغمہ نگار جاوید اختر آرٹیفیشیل انٹیلی جنس کے غلط استعمال پرناراض ہیں۔انٹرنیٹ پر اُن کا ایک ڈیپ فیک ویڈیو وائرل ہورہا ہے۔ویڈیو میں جاوید اختر کو سرپر ٹوپی پہنے دکھایا گیا ہے۔اس ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جاوید اختر اب مذہب پر عمل پیرا ہیں۔ جاوید اختر نے ویڈیو بنانے اوراسے پھیلانے والوں کو عدالت میں گھسیٹنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا  کہ یہ  ویڈیو  بکواس ہے ۔

بھارت کی بڑی اردو ویب  نیوز کےمطابق جاوید اختر،آرٹیفیشیل انٹیلی جنس کا شکار ہوگئے ہیں ۔ ویڈیو پرجاوید اختر نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق،جاوید اخترایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ان کی فرضی تصویر بنائی گئی ہے۔ویڈیو میں انھیں ٹوپی پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے اورویڈیو میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جاویداختر اب خدا کی راہ پر چل پڑے ہیں ۔ جاوید اختر نے اس ویڈیو کی تردید کی ہے۔ جاوید اختر نے وائرل ویڈیو کو بکواس بتایا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ نہ صرف گمراہ کن  ہے بلکہ ان کی ساکھ اورشیبہ کو بھی نقصان پہنچارہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب وہ اس معاملے میں قانونی کارروائی کرنےپر غور کر رہے ہیں اور سائبر پولیس میں شکایت درج کرانے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس ویڈیو کو بنانے اور اسے پھیلانے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

جاوید اختر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ویڈیو پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ایک فرضی ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں کمپیوٹر سے میری تصویر بنائی گئی ہے۔سرپر ٹوپی ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ میں آخر کار میں اللہ کے راستے پر چل پڑا ہوں۔یہ سراسر بکواس ہے۔ میں سائبر پولیس میں رپورٹ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں۔ میں ان لوگوں کو بھی عدالت میں گھسیٹوں گا، جنھوں نے میری شیبہ خراب کرنے کے لیے اس فرضی خبرکو گڑھا اور فاروڈکیا۔ جاوید اختر کی یہ ٹویٹ فوری طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ بہت سے لوگوں نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا کہ اے آئی کے ذریعےمعروف شخصیات کو منفی روشنی میں پیش کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ان کے بہت سے مداحوں اور ساتھی فنکاروں نے ان کی حمایت کی اور حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ جھوٹ پھیلانے کے لیے ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔