ویب ڈیسک: آسٹریلوی بیٹر عثمان خواجہ نے کہا کہ انہیں آج تک نسلی تعصبات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ 33 سالا خواجہ اپنا آخری میچ ( 88 واں) انگلینڈ کے خلاف سڈنی میں کھیلیں گے۔ یہ اپنا آخری میچ ٹھیک اسی میدان میں کھیلیں گے جہاں انہوں نے 2011 میں دیبیو کیا تھا۔
عثمان خواجہ جو کہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے پہلے مسلم کھلاڑی بنے،جذباتی کانفرنس میں کہا کہ :
" میں ایک فخر سے بھرپور مسلمان ، پاکستان سے آیا ہوا رنگین لڑکا ہوں جسے کہا گیا تھا کہ وہ کبھی آسٹریلیا کے لیے نہیں کھیلے گا۔ دیکھو آج کہاں کھڑا ہوں"
انھوں نے مزید اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میڈیا اور سابقہ کرکٹرز کی ان پر غیر منصفانہ تنقید کو وہ " دقیانوسی نسلی تصورات " قرار دیتے ہیں۔
میڈیا اور سابق کھلاڑیوں نے مجھے 'سست'، 'خودغرض' اور 'غیر پرعزم' کہا۔ یہ وہی نسلی دقیانوسی تصورات ہیں جن کا میں ہمیشہ سامنا کرتا رہا ہوں۔ میرا خیال تھا کہ میڈیا ااور سابقہ کھلاڑی ان پرانے تصورات سے آگے بھر چکے ہیں لیکن نہیں، ہم آج بھی وہی کھڑے ہیں "
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب دوسرے کھلاڑی شراب پینے یا گالف کھیلنے کے بعد زخمی ہوتے ہیں تو انہیں "لڑکوں کی شرارت" سمجھا جاتا ہے، لیکن جب وہ زخمی ہوئے تو ان کی نیت اور محنت پر سوال اٹھائے گئے کیونکہ انکا نام جون سمتھ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا مجھے پتا ہے کہ مجھو نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے کیونکہ میں کرکٹ سے باہر کچھ باتیں کر کے نمایاں ہو جاتا ہوں اور کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آتی۔ مجھے معلوم ہے کہ میں ان موضوعات پر بات کر رہا ہوں اور لوگ کہیں گے " عثمان پھر نسلی کارڈ کھیل رہا ہے" مجھے گمراہ نا کریں ، ہم یہ چیزیں روز دیکھتیں ہیں بس ان پر بات نہیں کرتے۔
"میں چاہتا ہوں کہ اگلا عثمان خواجہ آسان سفر کرے، اور اسے جان اسمتھ کی طرح ہی سمجھا جائے۔"
انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "آسٹریلوی کرکٹ اب بھی بہت سفید ( وائٹ )ہے، لیکن ہم بہتر اور زیادہ شمولیتی معاشرہ بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔"
واضح رہے کہ عثمان خواجہ نے چھ ایشیز سیریز کھیلیں , دو جیتیں، دو ہاریں اور دو برابر رہیں۔ وہ 2023 میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ گھریلو کرکٹ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔