ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہیلمٹ پر فلسطینی جھنڈے کا اسٹیکر لگا کر کھیلنے والے مسلمان کرکٹر پر پابندی عائد

ہیلمٹ پر فلسطینی جھنڈے کا اسٹیکر لگا کر کھیلنے والے مسلمان کرکٹر پر پابندی عائد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:مقبوضہ کشمیر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی پر بھارتی انتہا پسندی بے نقاب ہوگئی، ہیلمٹ پر فلسطینی جھنڈے کا اسٹیکر لگا کر میچ کھیلنے والے مسلمان کرکٹر پر پابندی عائد کر دی گئی۔ 

مقبوضہ کشمیر میں ایک مسلمان کرکٹر کو محض فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑ گیا، جس سے بھارت کی فلسطین مخالف اور مسلم دشمن سوچ ایک بار پھر عیاں ہو گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی کرکٹ ٹورنامنٹ 'جموں و کشمیر چیمپئنز لیگ' میں  فرقان بھٹ نامی کرکٹر اپنے ہیلمٹ پر فلسطینی جھنڈے کا اسٹیکر  لگا کر میدان میں اترا جس کے بعد  ٹورنامنٹ تنازع میں گھر گیا، یہ میچ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے کے سی اسپورٹس کلب میں منعقد ہوا۔ 

معاملہ سامنے آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔  منتظمین  نے پولیس کو بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا۔ 

تاہم  بھارتی انتہا پسندی ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی اور مسلمان کرکٹر فرقان بھٹ پر آئندہ لیگ کھیلنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس فی الحال معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ 

ذرائع کے مطابق فرقان بھٹ کو مقبوضہ کشمیر پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ میچ کے دوران فلسطینی جھنڈا استعمال کرنے کے پیچھے کیا مقصد ہے، یہ  معاملہ سامنے آنے کے بعد بی جے پی ایم پی پروین کھنڈیلوال برہم ہوگئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی ایم پی نے کہا کہ اگر آپ بھارت میں رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو بھارتی پرچم لہرانا ہوگا۔ جو بھی فلسطینی پرچم لہرائے گا اسے بھارت سے محبت نہیں سمجھا جائے گا۔ 

یہ واقعہ بھارت کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں ایک طرف اظہارِ رائے کی آزادی کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب فلسطین کے حق میں ایک علامتی اظہار بھی برداشت نہیں ہوتا۔