ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عدالت   کا پتنگوں اور ڈورز کی مہنگے داموں فروخت کنٹرول کرنے کی ہدایت

عدالت   کا پتنگوں اور ڈورز کی مہنگے داموں فروخت کنٹرول کرنے کی ہدایت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ میں بسنت تہوار سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، ڈی سی کیپٹن ریٹائر محمد علی اعجاز سمیت دیگر افسران پیش ہوئے ، عدالت  نے پتنگوں اور ڈورز کی مہنگے داموں فروخت کنٹرول کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے ڈائریکٹر ایف ائی اے ،ڈائریکٹر والڈ سٹی اتھارٹی،  ڈائریکٹر سیف سٹی ،اور ڈائیریکٹر  ہی ایچ اے ،سمیت دیگر افسران کو کل طلب کرلیا 

جسٹس  ملک محمد اویس خالد نے بسنت تہوار سے متعلق کیس کی سماعت کی ،ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز، ایس ایس پی آپریشنز لاہور توقیر، ڈائریکٹر آپریشنز لیسکو، اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ سمیت دیگر متعلقہ افسران عدالت  پیش ہوئے۔سماعت کے دوران افسران نے عدالت کو بسنت کے دوران کیے گئے حفاظتی انتظامات اور آگاہی مہم کے بارے میں بریفنگ دی۔

 درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بسنت سے متعلق حادثات تاحال مکمل طور پر نہیں رک سکے۔ وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بسنت سے قبل ہی ڈور سے گلے کٹنے کے حادثات نہیں رک رہے۔

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے ایس ایس پی آپریشنز کو ہدایت کی کہ وہ حادثات کی وجوہات سے متعلق جامع رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔ عدالت نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس ضمن میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سے مؤثر رابطہ اور کوآرڈی نیشن کی جائے۔عدالت نے ڈائریکٹر آپریشنز لیسکو سے دریافت کیا کہ بسنت کے دوران بجلی سے متعلق حفاظتی اقدامات کے لیے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ لیسکو کے آفیسر نے بتایا کہ رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی گئی ہے، والڈ سٹی اور دیگر علاقوں میں حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں ۔خطرناک مقامات کی نشاندہی کر کے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور بسنت سے قبل تمام برقی حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے جائیں گے۔

ڈی جی پی آر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ ٹی وی چینلز پر بھی عوامی آگاہی پیغامات نشر کیے جا رہے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے بسنت تہوار کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈرون کے استعمال کی تجویز بھی دی، جس پر عدالت نے متعلقہ اداروں سے اس پہلو کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ سے حفاظتی اقدامات کے بارے میں استفسار کیا، جس پر بتایا گیا کہ کلینکس آن ویل، ریسکیو 1122 اور دیگر ہنگامی سہولیات کو الرٹ رکھا گیا ہے۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو ہدایت کی کہ پتنگوں اور ڈورز کی مہنگے داموں فروخت کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جائے۔ عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز لاہور کو حکم دیا کہ فروخت ہونے والی ممنوعہ ڈورز کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ وجوہات سمیت آئندہ سماعت پر پیش کی جائے۔عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا جبکہ ڈائریکٹر والڈ سٹی اتھارٹی، ڈائریکٹر سیف سٹی اور ڈائریکٹر  پی ایچ اے  اور ایس ایس پی آپریشنز سمیت دیگر افسران کو طلب کرلیا ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 فروری تک ملتوی کر دی تاکہ متعلقہ ادارے اپنی رپورٹس اور اقدامات عدالت کے سامنے پیش کر سکیں۔