ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چیف جسٹس عالیہ نیلم کی زیرِ صدارت جیل اصلاحات سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ، اہم امور پر تبادلہ خیال

 چیف جسٹس عالیہ نیلم کی زیرِ صدارت جیل اصلاحات سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ، اہم امور پر تبادلہ خیال
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کی زیرِ صدارت جیل اصلاحات سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی جیلوں میں قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، انتظامی اصلاحات اور مالی بچت کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان، ہوم سیکرٹری ڈاکٹر احمد جاوید قاضی اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر نے بھی شرکت کی۔چیف جسٹس ہائیکورٹ کے لاونج میں ہونے والے 
 اجلاس کے دوران  چیف سیکرٹری ، ہوم سیکرٹری اور آئی جی جیل خانہ جات  نے چیف جسٹس ہائیکورٹ کو جیلوں میں قیدیوں کو فراہم  کی جانے والی سہولیات،  اور انتظامی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے افسران کو ہدایت کی کہ قیدیوں کو فراہم کی گئی سہولیات کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ اسی طرح قیدیوں سے ملاقات کے نئے رولز، جیل سپریڈنٹ کے ملاقات سے انکار کے خلاف اپیل کے حق سمیت دیگر انتظامی امور پر بھی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ چیف سیکرٹری سمیت اجلاس میں موجود  افسران نے بائیو میٹرک اصلاحات پر بھی  چیف جسٹس کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ پنجاب کی جیلوں میں ہر قیدی کا بائیو میٹرک ڈیٹا لیا جائے گا جو نادرا کے ساتھ لنک ہوگا۔ اس سے قیدیوں کے اصل نام کی تصدیق ممکن ہوگی اور مقدمات میں غلط نام درج کرنے والوں کی شناخت آسان ہو جائے گی۔اجلاس میں جیلوں میں مالی بچت کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ جیل اصلاحات کے تحت 40 کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے، جبکہ بجلی چوری روکنے کے اقدامات سے مزید 25 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ جیلوں میں چکیاں نصب کر کے محکمہ فوڈ سے گندم کی خریداری کی گئی، جس سے کروڑوں روپے کی بچت ممکن ہوئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ قیدیوں کو فراہم ہونے والا آٹا بغیر سوجی نکالے فراہم کیا جا رہا ہے، اور روزانہ تقریباً 50 ہزار کلو گندم استعمال ہوتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اجلاس میں  اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جیل اصلاحات کے یہ اقدامات نہ صرف قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں مددگار ہیں بلکہ سرکاری وسائل کی بچت اور شفافیت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام پیش رفت کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

Ansa Awais

Content Writer