ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایپل کا بھارتی حکومت کو صاف انکار

ایپل کا بھارتی حکومت کو صاف انکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : ایپل نے آئی فونز میں بھارتی حکومت کی سائبر سکیورٹی ایپلی کیشن شامل کرنے سے انکار دیا

آئی فونز بنانے والی کمپنی ایپل نے بھارت کی جانب سے سرکاری سائبر سیفٹی ایپلی کیشن کو اسمارٹ فونز میں لازمی طور پر پری لوڈ کرنے کے حکم پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایپل اپنے تحفظات بھارتی حکام تک پہنچائے گا کیونکہ حکومت کے اس اقدام سے صارفین کی نگرانی سے متعلق خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

بھارتی حکومت نے خفیہ طور پر ایپل، سام سنگ اور شیاؤمی سمیت دیگر کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ 90 دن کے اندر اپنے فونز میں ’سنچار ساتھی‘ نامی سرکاری ایپلی کیشن لازمی طور پر شامل کریں۔ اس ایپ کا مقصد موبائل فونز کی چوری کی صورت میں ان کا پتا لگانا، انہیں بلاک کرنا اور غلط استعمال سے روکنا ہے، حکومت چاہتی ہے کہ اس ایپ کو صارفین غیر فعال بھی نہ کر سکیں۔حکومت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ جو ڈیوائسز پہلے سے سپلائی چین میں موجود ہیں ان میں اس ایپ کو سافٹ ویئر اپڈیٹس کے ذریعے انسٹال کیا جائے۔

بھارت کی وزارت ٹیلی کام نے بھی بعد میں اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے اسے سائبر سکیورٹی کو درپیش ’سنگین خطرات‘ سے نمٹنے کا حفاظتی اقدام قرار دیا۔تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی مخالفین اور ڈیجیٹل پرائیویسی کے ماہرین نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ یہ حکومت کے لیے ملک کے 730 ملین اسمارٹ فون صارفین تک رسائی حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے صنعتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایپل کی جانب سے حکومت کو بتایا جائے گا کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسے احکامات پر عمل نہیں کرتا کیونکہ یہ ایپل کے  آئی او ایس ایکو سسٹم کے لیے متعدد پرائیویسی اور سکیورٹی مسائل پیدا کرتے ہیں۔  ایپل کا عدالت جانے یا کوئی عوامی مؤقف اختیار کرنے کا ارادہ نہیں ہے تاہم کمپنی حکومت کو واضح طور پر بتائے گی کہ سکیورٹی کمزوریاں پیدا ہونے کے باعث وہ اس حکم پر عمل نہیں کر سکتی۔

بھارتی حکومت نے اسمارٹ فون کمپنیوں کو فون میں سرکاری ایپلی کیشن لازمی رکھنےکاحکم دے دیا تھا ۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق صارف فون میں نصب سرکاری ایپلی کیشن کو اسمارٹ فون سے ڈیلیٹ نہیں کرسکےگا۔بھارتی حکومت نے کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ زیر استعمال موبائل فونز میں بھی سرکاری ایپلی کیشن اپ ڈیٹ کریں، حکومت نے اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو نئے قواعد پر عملدرآمد کے لیے 90 روز کی مہلت دی ہے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق  انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے نئے بھارتی حکم نامے پر تشویش کااظہار  کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ذاتی ڈیجیٹل آلات پرانتظامی کنٹرول کے مترادف ہے۔

صحافیوں نے اسے عام آدمی پر نظررکھنے اور اس کی پرائیوسی میں مداخلت کاحربہ قرار دے دیا، بھارتی صحافی رعنا ایوب نے کہا کہ آپ کےگھروں، زندگیوں میں گھسنا، حرکات و سکنات پر نظر رکھنا یہ سب اب حفاظت کےنام پر کیاجائےگا۔صحافی صبا نقوی نے سوال اٹھایا کہ کیا اب ہم سپر نگرانی والی ریاست بننے کی طرف جارہے ہیں؟کیوں اور کس لیے؟بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی اپوزیشن کی جانب سے موبائل فون میں سرکاری ایپ لازمی انسٹال کرنے کےحکم پرسخت تنقید کی گئی ہے۔

اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ سرکاری ایپلی کیشن انسٹال کرنے کا حکم پرائیوسی پرکھلا حملہ ہے،  یہ اقدام شہریوں کی معلومات اورحرکات پرنظر رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے اور نیاحکم آئین کےآرٹیکل21 کےتحت حاصل رازداری حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے سنچارساتھی نامی ایپلی کیشن کو جاسوسی ایپ قرار دیتےہوئےکہا کہ شہریوں کو رازداری کا حق حاصل ہے، مودی سرکار ملک میں ہر شکل میں آمریت لا رہی ہے۔ بھارت کے یونین وزیربرائےکمیونیکیشن نے بھارتی میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ایپلی کیشن آپشنل ہے اور اسےڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے، سرکاری ایپلی کیشن متعارف کرانا ہمارا فرض ہے۔