ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر جلد معاہدہ ہو گیا تو امریکا ایران پر نیا حملہ نہیں کرے گا۔
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ کے چند ممالک نے ایران سے معاہدے کے لیے مزید وقت مانگا ہے، جس کے بعد انہوں نے ممکنہ حملہ مؤخر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اس شرط سے مشروط ہے کہ معاہدہ جلد طے پا جائے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل بھی اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔
ادھر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے گفتگو کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ وائٹ ہاؤس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے کی تصدیق کی، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دھمکیوں کو "نفسیاتی اور ادراکی جنگ" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ایرانی قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابن الرضا کے مطابق تہران کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی تیاری اور مزاحمتی صلاحیت مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے بھی کہا ہے کہ ایران اگر اپنے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کو دوبارہ آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا تو اسرائیل کارروائی سے گریز نہیں کرے گا، چاہے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔