ویب ڈیسک :چین میں ایک نیا ٹرینڈ سامنے آیا ہے جہاں طلباء امتحانات میں نقل کرنے کے لیےا سمارٹ چشمے کرائے پر لے رہے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق، چینی مارکیٹ پلیس ’شیان یو‘ پر یہ اسمارٹ چشمے 40 سے 80 یوآن تک کرائے پر مل رہے ہیں۔
ان آلات کا ڈیزائن اتنا سادہ اور روایتی ہوتا ہے کہ امتحانی عملے کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ طالب علم نے عام نظر والی عینک پہنی ہے یا کوئی جاسوسی آلہ۔
ٹیکنالوجی جہاں انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کر رہی ہے، وہیں اس کا منفی استعمال تعلیمی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔
چین میں ان دنوں طلبہ کی جانب سے امتحانات میں نقل کے لیے ’اسمارٹ گلاسز‘ (خفیہ کیمروں والی عینک) کرایے پر لینے کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
فیوچریزیم کی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ چینی طلباء امتحانات میں نقل کرنے کے لیے یہ اسمارٹ ڈیوائسز سستے داموں کرائے پر لے رہے ہیں تاکہ بغیر پکڑے گئے کامیاب ہو سکیں۔
اسمارٹ چشموں کی صنعت میں اے آئی کے آ جانے سے بڑی ترقی ہوئی ہے، جس کی بدولت یہ آلات تصاویر لینے، ویڈیوز ریکارڈ کرنے، ارد گرد کی دنیا کا تجزیہ کرنے، سڑک کے نشانات کا ترجمہ کرنے، راستہ دیکھنے اور پریزینٹیشن کے دوران اسکرپٹ پڑھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
دوسری طرف ان کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے، چین کے لوگ ان چشموں کو خریدنے کے بجائے سستے مارکیٹ پلیسز سے کرائے پر لے رہے ہیں۔
چین کی مشہور سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ ’شیان یو‘ پر ایسے تاجر سرگرم ہیں جو صرف 40 سے 80 یوآن (تقریباً 1,500 سے 3,000 پاکستانی روپے) روزانہ کے عوض یہ جدید عینکیں کرایے پر فراہم کر رہے ہیں۔
شینزین سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر کا دعویٰ ہے کہ اس نے محض چار ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد طلبہ کو یہ آلات فراہم کیے۔
یہ اسمارٹ چشمے خاص طور پر انگریزی اور ریاضی کے امتحانات میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں کیمرے، آڈیو فیچرز اور جدید ٹیکنالوجی ہوتی ہے، جو طلباء کو امتحانی سوالات دیکھ کر فوراً جواب مہیا کر دیتی ہے۔
طلبہ ان عینکوں کے ذریعے سوالنامے کو اسکین کرتے ہیں، جس کے بعد اے آئی سسٹم فوری طور پر انگریزی اور ریاضی جیسے مشکل مضامین کے جوابات عینک کے اندر لگی چھوٹی اسکرین پر ظاہر کر دیتا ہے۔
یہ اسمارٹ گلاسز عام نظر آنے والی عینکوں جیسے ہی ہوتے ہیں، لیکن ان میں چھپے ہوئے کیمرے، آڈیو سسٹم اور مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز موجود ہوتے ہیں۔