ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر میں لاپتہ خواتین اور بچیوں کی عدم بازیابی سے متعلق پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ پر عدم اطمینان ظاہر کر دیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچیوں کا بازیاب نہ ہونا پنجاب پولیس کی نااہلی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مبینہ مغویہ بچیوں کی بازیابی سے متعلق سائلہ سلمی بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت ڈی آئی جی انویسٹیگیشن پنجاب شعیب خرم جانباز، ڈی آئی جی لیگل اویس ملک اور دیگر متعلقہ افسران عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے عدالت میں آئی جی پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش کی ،سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاپتہ بچیوں کی بازیابی کے حوالے سے موجودہ صورتحال کیا ہے۔ اس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے عدالت کو بتایا کہ 22 اپریل 2026 کو پنجاب بھر میں 3258 خواتین اور بچیاں لاپتہ تھیں، جن میں سے اب تک 1405 کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ اس وقت کتنی بچیاں تاحال لاپتہ ہیں، جس پر بتایا گیا کہ 1853 بچیاں اب بھی بازیاب نہیں ہو سکیں۔ اس پر چیف جسٹس نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔
عدالت نے لاپتہ بچیوں کے مقدمات کی مدت سے متعلق بھی استفسار کیا، جس پر ڈی آئی جی انویسٹیگیشن شعیب خرم جانباز نے بتایا کہ یہ مقدمات سال 2021 سے اب تک درج ہونے والی ایف آئی آرز پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو چوالیس ایف آئی آرز درج ہوئیں جن میں سے ایک لاکھ تین ہزار تین سو اکاون بچیاں اور خواتین بازیاب ہو چکی ہیں جبکہ اب بھی 1847 مقدمات زیر التواء ہیں جن میں متاثرہ بچیوں کی بازیابی باقی ہے۔چیف جسٹس نے یہ بھی دریافت کیا کہ جو بچیاں بازیاب ہوئیں وہ دورانِ گمشدگی کہاں مقیم رہیں۔ اس پر ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے بتایا کہ تقریباً 80 فیصد بچیوں نے اپنی مرضی سے شادیاں کر لی تھیں۔ ان کے بیانات کی روشنی میں اغوا کے مقدمات خارج کر دیے گئے۔ تقریباً 15 فیصد بچیاں اپنی مرضی سے واپس گھروں کو لوٹ آئیں اور انہوں نے اپنے والدین کے حق میں بیانات دیے۔ ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے عدالت سے باقی ماندہ بچیوں کی بازیابی کے لیے مزید دو ماہ کی مہلت طلب کی، تاہم چیف جسٹس عالیہ نیلم نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پہلے ہی چھ سال گزر چکے ہیں، مزید دو ماہ کی مہلت نہیں دی جا سکتی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ باقی بچیوں کی بازیابی کے لیے کون سا مؤثر میکنزم وضع کیا گیا ہے۔ اس پر ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے عدالت کو بتایا کہ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں اور بچیوں کی بازیابی کے لیے باقاعدہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔
عدالت نے پولیس حکام کو حکم دیا کہ باقی لاپتہ بچیوں کی بازیابی کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ دو ہفتوں میں پیش کی جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت مزید پندرہ روز کی مہلت دے رہی ہے اور اس عرصے میں عملی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن پنجاب کو بقیہ لاپتہ بچیوں کی بازیابی سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 18 جون تک ملتوی کر دی۔