سٹی42: اس مرتبہ پانچ یا چھ نہیں چالیس طیارے تباہ کرنے کا اعلان آیا ہے۔
یوکرین نے سائبیریا میں روس کے ائیر بیس پر حملہ کر کے نیوکلئیر ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
یوکرین کا یہ حملہ روسی سرحد کے اندر طویل فاصلے تک جا کر کسی ائیر بیس کو نشانہ بنانے کا پہلا واقعہ ہے۔
سائبیریا کے گورنر کا کہنا ہے کہ ڈرون ایک ٹرک سے لانچ کیے گئے۔
ارکتسک کے گورنر ایگور کوبزیف نے کہا ہے کہ سائبیریا کے سریڈنی میں فوجی اڈے پر حملہ کرنے والے ڈرون ایک ٹرک سے لانچ کیے گئے تھے۔
کوبزیف نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کیا کہ لانچ کی جگہ محفوظ ہے اور کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
روسی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ دوسرے حملے بھی اسی طرح لاریوں کے پیچھے سے نکلنے والے ڈرونز کے ساتھ شروع کیے گئے تھے۔
یوکرین کی طرف سے اس حملے کے متعلق کچھ مواد سوشل پلیت فارم ایکس پر شئیر کیا گیا ہے۔ ان ویڈیوز اور تصاویر سے ایسا لگتا ہے کہ کہ بیلیا ائیر بیس پر روس کے سٹریٹجک بمبار طیارے آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ طیارے طویل فاصلے پر ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ ائیر بیس سائیبیریا میں ایرکٹسک کے شمال میں واقع ہے اور یوکرین سے 4 ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے پر ہے۔
دارالحکومت کیف میں یوکرین کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یوکرین کی داخلی سکیورٹی ایجنسی ایس بی یو نے ایک بڑے ڈرون حملے میں 40 سے زائد روسی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا۔
یوکرینی اہلکار نے مزید بتایا کہ جن طیاروں کو نشانہ بنایا گیا اُن میں Tu-95 اور Tu-22 بمبار طیارے شامل تھے، جنہیں روس یوکرین پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے ساتھ استعمال کر سکتا ہے۔
بیلیا ائیر بیس پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے تیز رفتار بمبار طیارے Tu-22M تعینات ہیں۔