نوجوان کے گلے پر پتنگ کی دوڑ پھر گئی

 نوجوان کے گلے پر پتنگ کی دوڑ پھر گئی

(عابد چودھری)لاہور کے علاقے سمن آباد میں پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے نوجوان شدید زخمی ہوگیا،ستائیس سالہ افضل گھر سے سامان لینے نکلا تو گلے پر ڈور پھرگئی،زخمی کو سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق  پتنگ بازی کا  خونی کھیل صوبے بھر کے ساتھ ساتھ بالخصوص شہر میں بھی دھڑلے سے جاری ہے۔پولیس پتنگ بازی روکنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔یہ  خونی کھیل جہاں ہماری ثقافت، معاشرتی استحکام اور اسلامی اخلاقیات کو بگاڑنے کا سبب بن رہا ہے.افسوسناک امر یہ ہے کہ پتنگ کی دھاتی ڈور سے کٹ کر جاں بحق ہونے والے افراد کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو نہ پتنگ اڑاتے ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد پتنگ لوٹنا ہوتا ہے، آئے دن کسی نہ کسی انسان زندگی کا چراغ بھی گل کرتا چلا جارہا ہے۔ پاکستان میں بھی پتنگ بازی کو موسم سرما کے آخر میں اور بہار کی آمد پر خاص تہوار کی صورت میں منایا جاتا تھا جسے بسنت کہتے ہیں۔

اس خونی کھیل میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، لاہور کے علاقے سمن آباد میں پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے نوجوان شدید زخمی ہوگیا، سمن آباد کا رہائشی27 سالہ افضل گھر سے پان لینے کے لئے نکلا،ملت پارک کے قریب ڈور پھرنے سے شدید زخمی ہوگیا،افضل کو سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ بسنت پاکستان کا مقبول تہوار تھا اور لوگ اسے بہت جوش و خروش سے مناتے تھے۔ بسنت کے دن آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا ہوتا تھا۔ ان خوبصورت پتنگوں کو ڈور اور مانجے سے آسمان میں اڑایا جاتا تھا۔ بسنت کا تہوار منانے کے لئے دنیا بھر کے سیاح پاکستان کا رخ کرتے تھے۔ خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانی بسنت کے موقع پر پاکستان ضرور آتے تھے۔

حادثات کی شرح میں اضافہ کی وجہ سے شہرمیں پتنگ بازی پرپابندی عائد  کی گئی ہےمگر اسکے باوجود پتنگ بازی کا سلسلہ جاری ہے۔