ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیتن یاہو  کو اقتدار سے ہٹانے کی تیاریاں ،فوجی جرنیل میدان میں آ گیا

 نیتن یاہو  کو اقتدار سے ہٹانے کی تیاریاں ،فوجی جرنیل میدان میں آ گیا
کیپشن: اسرائیلی وزیراعظم
سورس: FACEBOOK
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو  کو اقتدار سے ہٹانے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ نیتن یاہو دسمبر 2022 سے مسلسل اس عہدے پر فائز ہیں، لیکن آئندہ انتخاب میں انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ نیتن یاہو کے اہم حریف سمجھے جانے والے سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ نے  30 جون سے اپنی انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی سینٹرسٹ پارٹی یشر کے سربراہ گاڈی آئزنکوٹ نے انتخابی مہم کے دوران ملک کو متحد کرنے والا لیڈر بننے کا وعدہ کیا اور موجودہ حکومت پر افراتفری پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے اسے اقتدار سے ہٹانے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کے عہدہ کیلئےانتخاب لڑنے کا اعلان کیا اور تعلیم،معیشت،عوامی سیکورٹی سمیت مختلف شعبوں میں کئی وعدے کئے۔ ’’ اسرائیل کو جیتنا چاہیے‘‘ نعرہ کے ساتھ آئزنکوٹ نے آئندہ انتخابات کو اسرائیل کی سلامتی، اتحاد اور روح کیلئے فیصلہ کن قرار دیا۔اس دوران انہوں نے7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئندہ اکتوبر میں اس ہولناک اکتوبر کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہم اسرائیل کی تاریخ کا ایک نیا اور کہیں بہتر باب شروع کریں گے۔ ہم اسے مل کر لکھیں گے‘‘۔
یاد  رہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج  (آئی ڈی ایف) کے سابق چیف آف اسٹاف گاڈی آئزنکوٹ نے بینی گینٹز کی بلو اینڈ وائٹ پارٹی چھوڑ کر اپنی نئی پارٹی قائم کی ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی روایات، ورثے اور تورات کی تعلیمات پر مبنی ایک متحد کرنے والا لیڈر بننے اور تمام اسرائیلی شہریوں کا وزیر اعظم ہونے کا وعدہ کیا۔ اگرچہ انہوں نے نیتن یاہو کا نام نہیں لیا، لیکن کہا کہ کچھ لوگ معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے ہیں اور ایسے اقدامات کرتے ہیں جو قومی مفاد کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق یہ ان اسرائیلیوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو اس وطن کے لیے کام کرتے ہیں، خدمت انجام دیتے ہیں اور اپنی جان قربان کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ آئزنکوٹ کا اشارہ حکومت کے اس قانون کی طرف تھا جسے عام طور پر ان متنازعہ تجاویز سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، جن میں انتہائی قدامت پسند یہودیوں (حریدی برادری) کو فوجی خدمت سے استثنیٰ دینے سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قومی اتحاد کی وسیع حکومت بنانے سے متعلق نیتن یاہو کے حالیہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آئزنکوٹ نے کہا کہ ’’قیادت ’قومی اتحاد‘ کی اصطلاح کو ایک فریب پر مبنی انتخابی مہم کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ میں قوم کو متحد کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش  کروں گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت اسرائیل کی روایات، وراثت اور بنیادی اقدار پر مبنی ہوگی۔ ساتھ ہی آئزنکوٹ نے الزام عائد کیا کہ ’’یہ ایسی قیادت ہے جس کیلئے ’جوابدہی‘ اور ’ذاتی مثال‘ جیسے الفاظ بے معنی ہیں۔ یہ جھوٹ بولنے والی قیادت ہے۔ گویا جس افراتفری میں ہم زندگی گزار رہے ہیں، اس کے سوا کوئی اور راستہ ہی نہیں۔ یہ تقسیم کو اس طرح فروغ دیتی ہے جیسے اس کی کوئی قیمت ہی نہ ہو، اور حکومت کرنے کا اسکا واحد طریقہ ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرنا ہے‘‘ ۔ آئزنکوٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’’اس پاگل پن کو ختم کرنا ہمارا فرض ہے، کیونکہ اسرائیل کے پاس دوبارہ غلطی کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ ہم ایسی قیادت کو بدلیں گے جس میں دور اندیشی اور حکمت عملی کا فقدان ہے۔‘‘
واضح رہے کہ صرف 4 سال قبل سیاست میں آنے والے سابق جنرل گاڈی آئزنکوٹ اب وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے سب سے مضبوط حریف کے طور پر ابھرے ہیں۔ 7 اکتوبر2023 کے حملے کے بعد وہ نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں شامل ہوئے تھے،لیکن 2024 میں غزہ کے حوالے سے واضح حکمت عملی نہ ہونے کا الزام لگا کر استعفیٰ دے دیا تھا۔ نیتن یاہو کے تقریباً تمام سیاسی مخالفین کی طرح آئزنکوٹ نے بھی غزہ، لبنان اور ایران جیسے ممالک میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مجموعی طور پر حمایت کی ہے۔