سپریم کورٹ آف پاکستان کے جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے تقرر کا قضیہ ووٹنگ سے طے کر لیا۔ نئے چیف جسٹس کا تقرر جوڈیشل کمیشن کے ارکان کے ووٹوں سے ہوا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں مستقل چیف جسٹس کی تقرری کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں زیر غور آیاتو ارکان کو اس پر ووٹنگ کرنا پڑی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں دوسرے صوبوں کی ہائی کورٹس کے مستقل چیف جسٹس کے تقرر کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا معاملہ زیر غور آیا۔
جسٹس سرفراز ڈوگر،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ناموں پر غور کیا گیا۔ اس ہائی کورٹ کے سی جے کے تقرر کے لئے جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی رائے مین نمایاں اختلاف سامنے آیا جس کے بعد ووٹنگ سے طے کیا گیا کہ تین ناموں میں سے چیف جسٹس کسے بنایا جائے۔ ووٹنگ کے عمل میں جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی بھاری اکثریت کی رائے سے جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس مقرر ہو گئے۔
جوڈیشل کمیشن نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چی جے مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔
جسٹس سرفراز ڈوگر اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔
جسٹس سرفراز ڈوگر کا مستقل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے عہدہ پر تقرر اکثریت کی رائے سے ہوا۔ سی جے جسٹس سرفراز ڈوگر کو جوڈیشل کمیشن کے ارکان کے 16 میں سے 9 ووٹ ملے۔ جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر نے جسٹس محسن اختر کیانی کو سی جے بنانے کے لئے ووٹ دیا لیکن بھاری اکثریت سینئیر موسٹ جج مسٹر جسٹس سرفراز ڈوگر کو مستقل سی جے بنانے کے حق میں تھی۔
جوڈیشل کمیشن کے 4 ارکان نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو چیف جسٹس بنانے کے حق میں ووٹ دیا۔پی ٹی آئی کے دو ارکان نے جسٹس میاں گل حسن کو ووٹ دیا۔
جسٹس امین الدین، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے جسٹس سرفراز ڈوگر کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، پاکستان بار کے نمائدے احسن بھون نے بھی جسٹس سرفراز ڈوگر کے حق میں ووٹ دیا۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور ممبر قومی اسمبلی شیخ آفتاب نے بھی جسٹس سرفراز ڈوگر کے حق میں ووٹ دیا۔
اقلیتی خاتون ممبر روشن خورشید بروچہ نے بھی جسٹس سرفراز ڈوگر کے حق میں ووٹ دیا۔
ممبر قومی اسمبلی رانا تنویر نے بھی جسٹس سرفراز ڈوگر کے حق میں ووٹ دیا۔
جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے بھی جسٹس سرفراز ڈوگر کے حق میں ووٹ دیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئیر موسٹ جج ہیں۔ ان کو پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے لاہور ہائی کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ کے نتیجہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ بدل گئی تھی اور چیف جسٹس سنیارٹی لسٹ میں سب سے اوپر آ گئے تھے۔ اس تبادلہ میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعض ججوں نے اس معاملہ کو متنازعہ بنا دیا اور اس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کو اجتماعی خط لکھا تھا۔ بعد میں اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے از خود نوٹس کے اختیار کے تحت اس خط کی بنیاد پر مقدمہ قائم کر کے ججز کی سنیارٹی کے معاملہ کی سماعت کی ، یہ معاملہ ججز سنیارٹی کیس کے نام سے مشہور ہوا۔ مفصل آئینی بحثوں کے بعد سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعض ججوں کے مؤقف کو مسترد کر دیا اور قرار دیا کہ کسی جج کے کسی دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر کے بعد اگر وہ سنیارٹی میں پہلے سے کام کر رہے ججوں سے اوپر آتا ہے تو اسے تسلیم کیا جائے گا۔
اس کیس کے فیصلہ کے بعد بھی انٹراکورٹ اپیلوں کو لے کر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے کے عمل مین رکاوٹیں رہیں۔ اس عرصہ کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے انہیں قائم مقام چیف جسٹس بنا دیا تھا۔
پشاور اور سندھ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کا تقرر
جوڈیشل کمیشن نے پشاورہائیکورٹ کےچیف جسٹس کیلئے جسٹس عتیق شاہ کا نام منظور کیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کیلئے جسٹس جنید غفار کے نام کی منظوری دی گئی۔
جسٹس جنید غفار سندھ ہائیکورٹ کی سینارٹی لسٹ میں پہلے نمبر ہیں
جسٹس جنید غفار کی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے عہدہ پر تقرری متفقہ طور پر ہوئی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کسی کو ووٹ نہیں دیا۔