ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دو کمپنیوں کا انضمام فائیو جی انٹرنیٹ کی فراہمی میں رکاوٹ بن گیا

دو کمپنیوں کا انضمام فائیو جی انٹرنیٹ کی فراہمی میں رکاوٹ بن گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : دو کمپنیوں کا انضمام ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی تاخیر کا سبب بن گیا۔ کروڑوں کنزیومر تیز رفتار انٹرنیٹ کی ضروری سہولت سے محروم ہو گئے۔  وفاقی وزیر آئی ٹی شیزا فاطمہ نے وجوہات بتا دیں۔

وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا عمل تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیلی نار اور پی ٹی سی ایل کے انضمام کے معاملے پر مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی منظوری کا انتظار ہے، جس کے بغیر نیلامی کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔وفاقی وزیر آئی ٹی نے واضح کیا کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان ایک خودمختار ادارہ ہے جو آزادانہ فیصلے کرتا ہے اور اسی لیے اس عمل میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر ریگولر فیڈبیک وزیر خزانہ اور اسپیکٹرم آکشن کمیٹی کے سربراہ لے رہے ہیں تاکہ عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔

شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ وزارت آئی ٹی کی جانب سے وزیر خزانہ سے اسپیکٹرم آکشن کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد کی باضابطہ درخواست بھی کی گئی ہے اور اب جب کہ بجٹ اجلاس ختم ہو چکا ہے، فائیو جی نیلامی کے لیے اسپیکٹرم آکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو جانا چاہیے۔ فائیو جی نیلامی کے عمل کے لیے تھرڈ پارٹی کنسلٹنسی فرم اپنی رپورٹ مکمل کر چکی ہے، جو اسپیکٹرم آکشن کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ اسی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا جائے گا کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کب اور کس طریقہ کار کے تحت کی جائے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام رکاوٹیں جلد دور ہو جائیں گی اور پاکستان میں فائیو جی کا خواب جلد حقیقت بنے گا۔