کلم اختر:بورڈ آف ریونیو کے کتنے منصوبے کتنے فیصد مکمل، تفصیلات منظرعام پر، زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کا منصوبہ 85 فیصد مکمل، عوام اب گھر بیٹھے فرد، انتقال اور ملکیت کی تفصیل حاصل کر سکیں گے۔
زمین کے تنازعات کے حل کے لیے ریونیو عدالتوں کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ 70 فیصد مکمل، مقدمات کا فوری اور شفاف حل ممکن بنایا جائے گا۔
"پنجاب زمین" ایپ کی اپ ڈیٹ کا عمل جاری، 60 فیصد تک کام مکمل کرلیا گیا، شہریوں کو ریئل ٹائم معلومات اور سمارٹ فیچرز کی سہولت میسر ہو گی، سرکاری اراضی کی نشاندہی اور قبضہ مافیا سے واگزاری کا منصوبہ 90 فیصد مکمل، ہزاروں کنال سرکاری اراضی واگزار، صحت و تعلیم منصوبوں کے لیے مختص کی گئی۔
ریونیو افسران کی ٹریننگ اکیڈمی کے انفراسٹرکچر میں بہتری کا منصوبہ 75 فیصد مکمل، افسران کو جدید قوانین اور ٹیکنالوجی سے آگاہ کیا جائے گا، پنجاب میں 15 نئے لینڈ ریکارڈ سینٹرز کے قیام کا منصوبہ 65 فیصد مکمل، دیہی علاقوں میں زمین سے متعلق خدمات آسانی سے دستیاب ہوں گی۔
بورڈ آف ریونیو کا ’’ڈیجیٹل گرداوری‘‘ پراجیکٹ 50 فیصد تک مکمل، فصلوں کی خودکار رجسٹریشن، کسانوں کو سبسڈی اور قرض کی سہولت، وراثتی سرٹیفکیٹ کے عمل کو آسان بنانے کے لیے نادرا کے اشتراک سے منصوبہ 80 فیصد مکمل، عوام کو مہینوں کی بجائے دنوں میں سرٹیفکیٹ میسر، زمینوں کے آن لائن ٹرانسفر سسٹم پر کام تیزی سے جاری، 60 فیصد تک مکمل، پٹواری کے بغیر زمین کی خرید و فروخت ممکن ہو گی۔
عوامی آگاہی مہمات کے لیے میڈیا اور کال سنٹرز کی فعالیت کا منصوبہ 95 فیصد مکمل،شہریوں کو تمام سروسز پر فوری رہنمائی فراہم کی جائے گی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید کی ہدایت پر منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے تمام تر توجہ مرکوز کی گئی۔