(ویب ڈیسک) امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بڑے پیمانے کی برطرفیوں نے عالمی سطح پر ملازمین کو شدید بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ بھارت اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہونیوالے ممالک میں شامل بتایا جا رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق کمپنی نے اپنے کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی اور مصنوعی ذہانت میں بڑھتی سرمایہ کاری کے پیش نظر ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں اطلاعات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر تقریباً 30 ہزار ملازمین زد میں آئے ہیں، جو کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ بنتا ہے۔ بھارت میں اس کے اثرات خاص طور پر نمایاں رہے، جہاں اندازاً 12 ہزار ملازمین کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ کئی ملازمین نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں علی الصبح، بعض صورتوں میں صبح پانچ یا چھ بجے، ای میل کے ذریعے ملازمت ختم ہونے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد فوری طور پر ان کی سسٹم تک رسائی بھی ختم کر دی گئی۔متاثرہ ملازمین کے مطابق اس فیصلے سے قبل نہ تو کوئی واضح اشارہ دیا گیا اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے پیشگی گفتگو کی گئی، جس کے باعث یہ عمل مزید صدمہ خیز ثابت ہوا۔ کچھ افراد نے لکھا کہ برسوں کی خدمات کے باوجود انہیں ایک مختصر پیغام کے ذریعے فارغ کر دیا گیا، جبکہ کئی ٹیموں میں آدھے سے زیادہ افراد کو نکالے جانے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی کی جانب سے اندرونی سطح پر جاری کئے گئے پیغام میں کہا گیا کہ تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کے باعث کچھ عہدے غیر ضروری ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ ساتھ ہی متاثرہ ملازمین کیلئے ایک پیکج کا ذکر بھی کیا گیا، جس میں ہر سال کی ملازمت کے بدلے 15 دن کی تنخواہ، 1ماہ کا نوٹس پیریڈ، چھٹیوں کی ادائیگی اور دیگر مراعات شامل ہیں،تاہم بعض شرائط اس سے منسلک بتائی جا رہی ہیں۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کی چھانٹیوں کے حوالے سے ان تمام منفی خبروں کے درمیان ایک خاتون ملازمہ کی سوشل میڈیا پوسٹ نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اس خاتون نے، جو حالیہ برطرفیوں کا شکار ہوئیں، اپنے پیغام میں نہایت مثبت اور حوصلہ افزا انداز اپنایا۔ انہوں نے لکھا کہ جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو خدا پہلے ہی ایک نیا راستہ تیار کر رہا ہوتا ہے، بس انسان کو صبر اور یقین کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ لمحہ کسی کی صلاحیت یا مستقبل کا تعین نہیں کرتا بلکہ یہ ایک عبوری مرحلہ ہوتا ہے، جس سے سیکھ کر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔انہوں نے اپنے تجربے کو ایک نئے سفر کی شروعات قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آنے والے مواقع کو امید اور تجسس کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں میں تیزی سے سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں کمپنیوں کو اپنے اخراجات کم کرنے اور ترجیحات بدلنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف اوریکل بلکہ دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں میں بھی اسی نوعیت کی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہ سکتا ہے، تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں مہارت رکھنے والے افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔