ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات اور فائر سیفٹی اقدامات سے متعلق درخواست پر وفاقی اور پنجاب حکومت کو آگ سے بچاؤ کے حوالے سے بنائی گئی پالیسی کی رپورٹ جمع کرانے کے لیے مزید دس دن کی مہلت دے دی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ "دیکھنا یہ ہے کہ کیا رولز اور ریگولیشنز بنے ہیں یا نہیں، اگر نہیں بنے تو کیوں نہیں بنے؟ اگر بنے ہیں تو ان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا؟" انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت تک جواب جمع نہ کروانے پر کسی قسم کا بہانہ نہیں سنا جائے گا اور جواب نہ دینے والے محکموں کے ڈائریکٹرز جنرل (ڈی جیز) کو طلب کیا جائے گا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید مزید ریمارکس دئیے کہ "یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس میں التواء کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔" سماعت کے دوران مختلف محکموں کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے جن میں این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے پی، ای پی اے، ایل ڈی اے، والڈ سٹی اور ریسکیو سمیت دیگر ادارے شامل تھے۔ ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ، راحیلہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ پنجاب حکومت کی طرف سے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل وقاص عمر اور وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر نے اپنے نمائندے عدالت میں پیش کیے۔ درخواست گزار کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،عدالت نے وفاقی حکومت سے آگ سے بچاؤ کے حوالے سے رپورٹ کی موجودگی کے بارے میں استفسار کیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر نے بتایا کہ بعض محکموں کی رپورٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئی، جن میں فیسکو اور دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیاں شامل ہیں۔
چیف جسٹس نے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی طرف سے رپورٹ نہ آنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "نوٹس ایک ہفتہ پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں، لیکن کچھ ادارے ابھی تک سوئے ہوئے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "جب تاریخ قریب آتی ہے تو عدالت میں آ کر کہتے ہیں کہ گزشتہ روز نوٹس ملا۔"سماعت کے دوران مختلف محکموں کے نمائندے نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت مانگی، جس پر عدالت نے صرف دس روز کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 14 اپریل تک ملتوی کردی۔