ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہاروی وائنسٹن کیخلاف ریپ مقدمات کی سماعت، متاثرہ اداکارائیں عدالت میں روپڑیں

ہاروی وائنسٹن کیخلاف ریپ مقدمات کی سماعت، متاثرہ اداکارائیں عدالت میں روپڑیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: معروف ہالی ووڈ پروڈیوسر اورانٹرٹینمنٹ کمپنی کے مالک ہاروی وائنسٹن کے خلاف جنسی زیادتی مقدمات کی سماعت پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے اورمتاثرہ اداکارائیں عدالت میں پھوٹ پھوٹ کرروپڑیں۔

 معروف فلم پروڈیوسر پر 2017 میں جنسی زیادتی کا الزام عائد کرنے والی تینوں خواتین نے جج کے سامنے اپنے بیانات قلم بند کرائے، عدالت میں ملزم کے خلاف کچھ گواہ بھی پیش ہوئے جنہوں نے ان واقعات کی تصدیق کی۔

 ایک متاثرہ خاتون جیسیکا نے بتایا کہ مجھے 2013 میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور خاموش رہنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا،دوسری متاثرہ خاتون مریم ہیلی نے عدالت کو بتایا کہ میری رضامندی کے بغیر 2006 میں میرےساتھ زبردستی جنسی زیادتی کی گئی،تیسری متاثرہ خاتون کجا سکولا نے بتایا کہ ہاروی وائنسٹن نے 2005 میں انہیں زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

 متاثرہ خواتین کے وکیل نے فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کو جنسی درندہ قرار دیتے ہوئے سخت سے سخت سزادینے کی درخواست کی،اس موقع پر تینوں خواتین پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں جنہیں پانی اور ٹشو پیپر پیش کیا گیا،سماعت کے دوران  ججز اور وکلا بھی جذباتی ہوگئے۔

 اگلی سماعت میں اب ہاروی وائنسٹن کے وکلاء متاثرہ خواتین اور گواہوں پر جرح کریں گے اور اپنے دلائل پیش کریں گے،ممکنہ طور پرہاروی وائنسٹن بھی اپنے خلاف لگائے گئے الزامات پر عدالت میں بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

 یاد رہے کہ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کو اداکاراؤں کو جنسی زیادتی مقدمے میں 2020 ء میں دی گئی 23 سال قید کی سزا کو 2024 میں نیویارک کورٹ نے کالعدم قرار دیدیا تھا،جس پر ان خواتین نے سزا بحال کرانے کے لیے نیویارک کی اپیل کورٹ میں درخواستیں جمع کرائی تھیں اور اب دوبارہ ٹرائل ہو رہا ہے۔

 اگر دوبارہ ٹرائل میں ہاروی وائنسٹن بے قصور ہوتے ہیں اورعدالت انہیں مکمل طور پر پہلے کیس سے آزاد کردیتی ہے، تو بھی وہ 16 سال قید کے کیس میں جیل میں ہی رہیں گے۔

 واضح رہے کہ ہاروی وائنسٹن پر 80 سے زائد خواتین نے جنسی زیادتی اور ہراسانی کے الزامات لگائے تھے جس کے بعد ہی دنیا میں "می ٹو مہم" شروع ہوئی تھی۔