ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لیڈی ولنگڈن ہسپتال اسکینڈل: محکمہ صحت کا بڑا ایکشن، متعدد ڈاکٹرز کو شوکاز

لیڈی ولنگڈن ہسپتال اسکینڈل: محکمہ صحت کا بڑا ایکشن، متعدد ڈاکٹرز کو شوکاز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

رائو دلشاد: لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مریضہ کی مبینہ ویڈیو بنانے کے معاملے پر محکمہ صحت پنجاب نے بڑا ایکشن لیتے ہوئے متعدد ڈاکٹرز اور انتظامی افسران کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

حکام کے مطابق ذمہ دار سینئر انتظامی افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ پانچ پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو بھی باضابطہ خط ارسال کر دیا گیا ہے۔

مبینہ ویڈیو بنانے پر ڈاکٹر طیبہ اور ڈاکٹر ماہم کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ڈاکٹر زینب، ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر عیسیٰ کے خلاف بھی انضباطی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق ایم ایس ڈاکٹر فرح، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عظمیٰ، سینئر کنسلٹنٹ اینستھیزیا، ڈاکٹر منیر، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر روطابہ اور ڈاکٹر منزہ کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

 مزید برآں سینئر ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر درہ ارم کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی جاری ہے۔

تحقیقات میں ایم ایس، ایچ او ڈی اور دیگر سینئر ڈاکٹرز کو فرائض میں غفلت، انتظامی کمزوری اور کنٹرول نہ رکھنے کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں عظمت محمود نے تمام متعلقہ افسران سے 7 دن کے اندر تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔

دوسری جانب آصف بلال لودھی کو مریم نواز کی ہدایت پر ہیئرنگ آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ میاں شکیل احمد کو بھی سماعتی عمل میں شامل کیا گیا ہے۔

تمام ذمہ داران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 7 دن کے اندر ذاتی طور پر پیش ہوں یا اپنا تحریری جواب جمع کروائیں۔ مزید برآں ایم ایس، ایچ او ڈی، سابق ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اقرا حفیظ، چارج نرس ڈاکٹر اقرا زاہد، فوزیہ رشید اور اسٹاف ممبر حسیب الرؤف کو بھی شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔