علی ساہی: پنجاب بھر میں جرائم کی شرح میں واضح اور نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق دسمبر کے مہینے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی طور پر کرائم اگینسٹ پراپرٹی سے متعلق 15 پر موصولہ کالز میں 49 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق ڈکیتی سے متعلق 15 پر موصولہ کالز میں گزشتہ سال کی نسبت 59 فیصد کمی ہوئی، جبکہ راہزنی کی وارداتوں میں 51 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح گاڑی چوری کی 15 پر موصولہ کالز میں 55 فیصد، کار چوری میں 73 فیصد اور موٹرسائیکل چوری کی کالز میں 54 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گاڑیاں چھینے جانے کی وارداتوں کی 15 پر موصولہ کالز میں 71 فیصد جبکہ موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتوں میں 72 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سنگین جرائم میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں قتل کی وارداتوں میں 36 فیصد اور اغوا کی وارداتوں سے متعلق کالز میں 31 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق خواتین سے اجتماعی زیادتی کے رجسٹرڈ کیسز میں بھی 44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو ایک اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ سیف سٹیز منصوبے کا دائرہ کار بڑے شہروں کے بعد اب تحصیلوں کی سطح تک بڑھایا جا رہا ہے، جس سے جرائم کی روک تھام میں مزید بہتری آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سنگین وارداتوں اور اسٹریٹ کرائم میں کمی کا رجحان پنجاب پولیس کی بہتر حکمت عملی اور مؤثر کارکردگی کا عکاس ہے۔
آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ صوبے کے تمام تھانوں میں فری رجسٹریشن آف کرائم کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ پنجاب پولیس کا واحد فوکس شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی ہے۔