ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چین میں کرپشن کے خلاف تاریخ کا سب سے بڑا مقدمہ؛ بدعنوان کھرب پتی فیملی کوسخت سزائیں

 China verdict on corrupt family's crimes, City42 , Capital punishment
کیپشن: سنگین جرائم میں ملوث مجرم دولت اکٹھی کر للین تو انہین سزا دینا مشکل ہو جاتا ہے، چین نے تاریخ کے بہت بڑے مقدمے مین درجنوں مجرموں پر مشتمل خٓندان کے ارکان کو سخت سزائیں دے کر ثابت کت دیا کہ ریاست اور عدالت چاہے تو جرم کو جڑ سے اکھاڑ سکتی ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: چین میں کرپشن میں مبتلا خاندان کے  سنگین جرائم ثابت ہونے پر 16 ارکان کو پھانسی اور 11 افراد کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔
مِنگ خاندان کے نام سے مشہو ر اس فیملی کے سبھی ارکان ہمسایہ ملک میانمار میں سنگین نوعیت کی کرپشن اور جرائم میں مسلسل ملوث پائے گئے۔ آخر کار اس فیملی کے  39 میں سے 11  افراد کو موت کی سزا، 5  مجرموں کو 2 سال کی معطلی کے ساتھ موت کی سزا، 11 مجرموں کو عمر قید اور باقی مجرموں  کو 5 سے 24 سال تک کی سزا سنائی گئی ہے۔

چین کے شہر وین زو  کی عدالت نے ایک ہی روز میں  بدعنوانیوں میں دھنسے ہوئے ایک بدنام خاندان کے 16 لوگوں کو پھانسی، یعنی موت کی سزا سنا دی ہے۔ چین کی ایک عدالت نے پیر (29 ستمبر) کو میانمار میں فراڈ سنٹر چلانے والے ایک بدنام خاندان کے خلاف یہ کارروائی کی ہے۔

اس خاندان کے درجنوں افراد مجرمانہ سرگرمیوں کے قصوروار پائے گئے، جن میں سے کئی کو طویل قید کی سزا دی گئی ہے۔ مِنگ خاندان ان 4 گروہوں میں سے ایک کے لیے کام کرتا تھا، جنہوں نے چین کی سرحد کے پاس میانمار کے چھوٹے سے قصبے ’لاؤکینگ‘ کو جوئے، ڈرگز اور دھوکہ دہی کا مرکز بنا  رکھا تھا۔ 2023 میں میانمار نے سخت آپریشن کرتے ہوئے ان خاندانوں کے کئی افراد کو گرفتار کر چین کے حوالے دیا۔ 

اس کے بعد اب چین  کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نےاس بدعنوان خاندان کے خلاف سخت کارروائی کی۔ مقدمات عدالت میں گئے اور مِنگ خاندان کے کُل 39 افراد کو پیر کو چین کے مشرقی شہر ’وینزو‘ میں سزا سنائی گئی۔
مِنگ خاندان کے 39 افراد میں سے 11 کو موت کی سزا، 5 کو 2 سال کی معطلی کے ساتھ موت کی سزا، 11 کو عمر قید اور باقی کو 5 سے 24 سال تک کی سزا سنائی گئی ہے۔

 عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ  پایا کہ 2015 سے مِنگ خاندان اور بقیہ جرائم پیشہ گروہ ٹیلی کام فراڈ، غیرقانونی کیسینو، ڈرگس کی اسمگلنگ اور جسم فروشی جیسی سرگرمیوں میں شامل تھے۔

مقدمہ کے  ریکارڈ کے مطابق ان کے جوئے اور دھوکہ دہی کے کاروبار سے 10 ارب یوآن (تقریباً 1.4 ارب ڈالر) کی کمائی ہوئی۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ ان خاندانوں کے کیسینو ہر سال کئی ارب ڈالر کا لین دین کرتے تھے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ مِنگ خاندان اور بقیہ گروہ فراڈ کے کئی مراکز میں مزدوروں کی موتوں کے ذمہ دار تھے۔ ایک واقعہ میں تو انہوں نے  جرائم سے تائب ہو کے چین واپس لوٹنے س کا ارادہ کرنے والے مزدوروں کو واپس جانے سے روکنے کے لیے ان مزدوروں پر گولی چلا دی تھی۔

 شروعات میں یہ کاروبار چین میں جوئے کی زیادہ مانگ کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، کیونکہ چین اور پڑوسی ممالک میں جوا غیرقانونی ہے۔ آہستہ آہستہ ’لاؤکینگ‘ کے کسینے منی لانڈرنگ، اسمگلنگ اور دھوکہ دہی کے مراکز میں تبدیل ہو گئے۔

ان لوگوں کی مجرمانہ سرگرمیاں اتنی بڑھیں کہ  انہیں اقوام متحدہ نے ‘سکینڈیمک‘ کا انجن روم قرار دے دیا، جس میں 1 لاکھ سے زائد غیر ملکی شہریوں (زیادہ تر چینی) کو دھوکہ دہی کے مراکز میں پھنسا کر قید کر لیا جاتا تھا اور ان سے آن لائن فراڈ کے لیے طویل عرصہ تک کام کرایا جاتا تھا۔
 مِنگ خاندان کبھی میانمار کی ’شان ریاست‘ کے سب سے طاقتور خاندانوں میں سے ایک تھا۔

 انہوں نے لاؤکینگ میں کم از کم 6 ہزار مزدورں کو فراڈ سنٹر میں رکھا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ بدنام ’کراوچنگ ٹائگر وِلا‘ تھا، جہاں مزدوروں کو مسلسل جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

 2 سال قبل  میانمار میں باغی گروپوں کے اتحاد نے ایک بڑا حملہ کر کے میانمار کی فوج کو ’شان ریاست‘ کے بڑے حصوں سے بھگا دیا اور لاؤکینگ پر قبضہ کر لیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چین جس کا ان باغی گروپوں پر کافی اثر ہے  نے اس حملے کو ہری جھنڈی دی تھی۔ منگ خاندان کے سربراہ مِنگ زوچانگ نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی، جبکہ بقیہ افراد کو چین کے حوالے کر دیا گیا۔ کچھ نے عدالت میں اپنے جرائم کا اعتراف کر کے ان جرائم میں ملوث رہنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ فراڈ سنٹر میں کام کرنے والے ہزاروں لوگوں کو بھی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ چین نے سخت سزاؤں کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنی سرحد پر دھوکہ دہی کے کاروبار سے سختی سے نمٹے گا۔ بیجنگ کے دباؤ میں تھائی لینڈ نے بھی رواں سال میانمار کی سرحد پر واقع فراڈ سنٹر پر کارروائی کی۔ پھر بھی یہ کاروبار اپنے طریقے بدل چکا ہے۔ اب اس کا بڑا حصہ کمبوڈیا میں چل رہا ہے، حالانکہ میانمار میں بھی یہ جاری ہے۔