پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران سیاسی چئیرمین فیڈرل بیورو آف ریوینیو کو اربوں روپے کا چونا لگا گیا۔ ایف بی آر کے سابق چئیرمین کے خلاف ایف آئی اے نے میگا کرپشن کا مقدمہ درج کر لیا۔
شبر زیدہ کو پی ٹی آئی کے بانی نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ایف بی آر کا چئیرمین بنایا تھا۔بطور چئیرمین شبر زیدی نے اہلکاروں کی ملی بھگت سے غیر مجاز طور پر ادائیگیاں کیں اور 16 ارب روپے سے زیادہ مالیت کے ٹیکس ری فنڈ کر دیئے۔ یہ تمام ادائیگیاں مئی 2019 سے جنوری 2020 کی مدت میں کیں۔
شبرزیدی کے خلاف مکمل چھان بین کرنے کے بعد ایف بی آر کے حکام کی تصدیق کے ساتھ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے بانی نے ملزم شبر زیدی کو ٹیکس ریفارم کے چیمپئین کی حیثیت سے پیش کر کے ایف بی آر مین چئیرمین بنایا تھا۔ بطور چئیرمین ایف بی آر انہوں نے خلاف ضابطہ 16 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ریفنڈ کیے۔قومی خزانے کو یہ بھاری نقصان پہنچا کر شبر زیدی نے تین بینکوں، دو سیمنٹ کمپنیوں اور ایک کیمیکل کمپنی کو 16 ارب روپے کا غیر قانونی فائدہ پہنچایا۔
ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سیل نے مکمل تحقیقات کرنے کے بعد اب مقدمہ درج کیا ہے۔ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ شبر زیدی کے غیر قانونی احکامات سے غیر قانونی ریفنڈ حاصل کرنے والوں میں 3 بینکس، دو سیمنٹ ساز کمپنیاں اور ایک کیمیکل کمپنی شامل ہیں۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اربوں روپے کے غیر قانونی ٹیکس ری فنڈ حاصل کرنے والی تمام کمپنیاں اور بینک شبر زیدی کی بطور چئیرمین تعیناتی سے قبل انکی ٹیکس فرم کے کلائنٹ تھے۔ ایف بی آر کا چئیرمین بننے کے بعد شبر زیدی نے اپنے پرانے کلائنٹس کو من مانے فوائد پہنچانے کے لئے تمام قواعد اور قوانین کو بالائے طاق رکھ دیا۔
ایف آئی آر 29 اکتوبر کو درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں شبر زیدی کو، ان کے ساتھ ایف بی آر اہلکار اور بینک انتظامیہ کو نامزد کیا گیا ہے۔