ٹریفک پولیس میں 11 کروڑ کا گھپلا

ٹریفک پولیس میں 11 کروڑ کا گھپلا

کورٹ روڈ(علی ساہی) پچھلے 3 سالوں میں ٹریفک پولیس میں گیارہ کروڑ کی کرپشن میں 1 اکاؤنٹنٹ اور1کلرک نامزد ایک سال کے دورانیہ کی ناقص سپرویژن کا الزم لگنے پر سابق ڈی آئی جی ٹریفک نے انکوائری پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ انکوائری کی درخواست آئی جی پنجاب کو دے دی۔

ٹریفک پولیس میں رواں سال کے اغاز میں پچھلے 3 سالوں میں مختلف افسران کے ادوارمیں 11 کروڑ کی کرپشن ہوئی تھی جس پر انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ نے انکوائری میں ایک سالہ عرصہ گزارنے والے ڈی ائی جی اخترعباس کے دورمیں 2 کروڑ 20 لاکھ کی کرپشن سامنے آئی تھی جس پر ناقص سپرویژن پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کوکاروائی کے لئے لکھا گیا تھا۔

سابق ڈی آئی جی ٹریفک اخترعباس نے دوکروڑ بیس لاکھ کی کرپشن میں انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کی ناقص سپرویژن کے معاملے میں دوہرے معیارپر سوالات اٹھا دے ہیں۔

درخواست میں آئی جی پنجاب کو کہا گیا ہے کہ جس کام پر انکے خلاف کارروائی کی گئی وہاں کام سابق ایڈیشنل آئی جی ٹریفک فاروق مظہر، سابق ایس ایس پی ہیڈ کوارٹر ٹریفک سرفراز فلکی کے دور میں ہوا لیکن فاروق مظہر اورسرفراز فلکی سمیت 3 افسران کے دور میں 8 کروڑ سے زائد کی کرپشن ہوئی لیکن ان کو بے گناہ قرار دے کر صرف اکاؤنٹنٹ اور کلرک کے خلاف ایکشن کا لکھا گیا ہے۔

انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کی جانب سے ٹریفک ہیڈ کوارٹر کا 2013ء سے 2016 کا اڈٹ بھی شروع کروادیا گیا ہے کیونکہ اس پیریڈ میں بھی دونوں ملازمین ٹریفک ہیڈ کوارٹر میں تعینات تھے۔دونوں ادوار کی انکوائری کرکے معاملہ انٹی کرپشن کو بھی بھجوا دیا گیا ہے