ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

رہائشی علاقوں میں کھاد اور زرعی ادویات کی دکانوں کی اجازت کی تجویز مسترد

رہائشی علاقوں میں کھاد اور زرعی ادویات کی دکانوں کی اجازت کی تجویز مسترد
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

علی رامے: پنجاب حکومت نے کھاد اور زرعی ادویات کے کاروبار سے متعلق لینڈ یوز قوانین میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی، تاہم رہائشی علاقوں میں کھاد اور زرعی ادویات کی دکانیں قائم کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پیسٹی سائیڈز اور فرٹیلائزر ڈیلرز کے لیے کاروبار کو آسان بنانے اور لائسنسنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کھاد اور زرعی ادویات کے لائسنس کے اجرا کے طریقہ کار میں بھی مزید اصلاحات کی جائیں گی۔

نئی پالیسی کے تحت ای بز سسٹم کے ذریعے لائسنس کے اجرا کا دورانیہ 120 دن سے کم کر کے 14 دن کر دیا جائے گا، جبکہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں کاروباری رکاوٹیں دور کرنے کے لیے متعلقہ قواعد میں ترامیم کی تجویز بھی منظور کر لی گئی ہے۔

حکام کے مطابق صنعتی علاقوں میں کھاد اور پیسٹی سائیڈز کے اسٹوریج اور مینوفیکچرنگ کی اجازت دی جائے گی، جبکہ کمرشل اور زرعی علاقوں میں مخصوص شرائط کے تحت کاروبار کیا جا سکے گا۔

پالیسی کے تحت گوداموں اور دکانوں کے لیے فائر سیفٹی سمیت دیگر حفاظتی انتظامات لازمی قرار دیے گئے ہیں تاکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ زراعت اور لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ (LG&CD) محکمہ ان ترامیم کے مسودے کی توثیق کر چکے ہیں، جبکہ لینڈ یوز رولز میں مجوزہ ترامیم کی سمری بھی منظور کر لی گئی ہے۔