مال روڈ کی بحالی کا منصوبہ کھٹائی میں پڑنے لگا

مال روڈ کی بحالی کا منصوبہ کھٹائی میں پڑنے لگا

(راؤ دلشاد) عدالت عالیہ کے حکم پر 4 ماہ سے جاری تزئین و آرائش کا کام تاحال مکمل نہ ہو سکا، لارڈ میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید کا کہنا ہے کہ 80 فیصد تزئین و آرائش کا کام مکمل ہوچکا ہے باقی ماندہ بھی جلد ہوگا۔

عدالت عالیہ کے حکم پر میٹروپولیٹن کارپوریشن نے ٹریڈرز کے ہمراہ مال روڈ کی تاریخی حیثیت کو نمایاں کرنے کا بیڑا اٹھایا، پہلے مرحلہ میں 1934 کے نقشے کے مطابق تاریخی عمارتوں کے قبضے اور غیرقانونی تعمیرات و تجاوزات ہٹائی گئیں، چار ماہ بعد بھی بیشتر تاریخی عمارتوں کی تزئین و آرائش مکمل نہیں ہوسکی، جسٹس علی اکبر قریشی نے مال روڈ کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم جاری کیا تو تاریخی عمارتوں کے کمرشل استعمال کرنے والوں نے اپنا کام تو کردیا لیکن بالائی منزلوں کی تزئین و آرائش کا کام تاحال ادھورا ہے۔

لارڈ میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید نے سٹی فورٹی ٹو کو بتایا کہ 80 فیصد سے زائد عمارتوں کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا جاچکا ہے، جسٹس علی اکبر قریشی ریٹائرڈ ہو نے کے بعد بھی عدالت عالیہ کے احکامات کوعملی جامہ پہنائیں گے۔

لارڈ میئر لاہور کے مطابق تزئین و آرائش کا بقیہ کام جلد مکمل کرلیا جائے گا، میٹروپولیٹن کارپوریشن اپنے وسائل سے تزئین و آرائش کا کام کر رہی ہے۔

سال 2018 میں تو مال روڈ کی اصل حالت میں بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا، شائد آئندہ سال ممکن ہوجائے۔