سٹی42:بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بھانجے شاہ ریز خان کو انسداد دہشت گردی عدالت نےمزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا.
کیس کی سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کی۔ پولیس نے عدالت سے ملزم شاہ ریز خان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے یہ کہتے ہوئے استدعا مسترد کر دی کہ سفری کاغذات کی تصدیق کے لیے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔
ملزم شاہ ریز خان کی جانب سے معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے موکل کے دفاع میں دلائل دیے۔اُنہوں نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ شاہ ریز خان 9 مئی کو لاہور میں موجود نہیں تھے۔وہ چترال میں اپنے دوستوں کے ہمراہ تھے، عدالت میں دوستوں کے بیانِ حلفی بھی جمع کرائے گئے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ملزم ایک باصلاحیت اتھلیٹ ہے اور اسے صرف بانی پی ٹی آئی کا بھانجہ ہونے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ جب شاہ ریز خان واقعے کے وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھے تو انہیں مقدمے سے ڈسچارج کر دیا جائے۔عدالت نے اس موقع پر ہدایت دی کہ تفتیشی افسر ملزم کے سفری کاغذات کی تصدیق کرے۔
یاد رہے کہ شاہ ریز خان پر 9 مئی 2023 کو لاہور کے جناح ہاؤس پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام ہے۔ وہ علیمہ خانم (عمران خان کی بہن) کے بیٹے اور عمران خان کے بھانجے ہیں۔ پولیس نے اس مقدمے میں پہلے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا جو اب مکمل ہو چکا ہے۔