ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں تاریخ کا بد ترین سیلاب، بروقت اقدامات سے سیکڑوں جانیں بچ گئیں

پنجاب میں تاریخ کا بد ترین سیلاب، بروقت اقدامات سے سیکڑوں جانیں بچ گئیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: پنجاب میں تاریخ کا بد ترین سیلاب  دریائے راوی، ستلج اور چناب میں طغیانی کی صورتحال کے باعث پنجاب پولیس کےبروقت اقدامات سے سیکڑوں جانیں بچ گئیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات پر تمام متعلقہ محکمے متحرک رہے، ساہیوال میں ریسکیو کیلئے ڈرون سرویلنس، مضافاتی علاقوں میں متاثرین کی تلاش کیلئے ڈرونز کا استعمال کیا گیا، سیلابی ریلے میں گھرے متعدد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔شیخوپورہ میں بروقت بند باندھنے سے جانیں و مال محفوظ رہا، حکومتی اقدامات سے درجنوں گاؤں، سیکڑوں مویشی اور زرعی زمینیں سیلابوں سے محفوظ رہیں، فلڈ ریلیف اور میڈیکل کیمپس میں متاثرین کی بھر پور داد رسی میں مصروف رہے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق 15 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، پنجاب پولیس کی بہادر خواتین افسران اور اہلکار بھی سیلاب متاثرین کے انخلا، امدادی سرگرمیوں میں شانہ بشانہ ہیں۔پولیس ترجمان کا کہنا تھاکہ سینئر خواتین پولیس افسران و اہلکار سیلاب متاثرین، ساز و سامان، مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں، پنجاب پولیس نے اب تک مجموعی طور پر 90ہزار 700 سے زائد سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ پنجاب پولیس کے جوانوں نے38 ہزار 130 مردوں، 27 ہزار 418 خواتین اور 25 ہزار 176 بچوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، پنجاب پولیس نے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے 82 ہزار 200 سو سے زائد مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق لاہور میں اب تک 5000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، سیلاب متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی کیلئے پنجاب پولیس کی 700 سے زائد گاڑیاں، 40 کشتیاں زیر استعمال ہیں، آئی جی پنجاب نے سیلاب زدہ علاقوں سے متاثرہ افراد کا انخلا، ریسکیو اینڈ ریلیف سرگرمیاں مزید تیز کرنے کا حکم دیا۔

آئی جی پنجاب نے حکم دیا کہ فلڈ ریلیف کیمپوں میں پناہ گزین متاثرہ افراد کو بھرپور سکیورٹی، خوراک، ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنائیں، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو، سکیورٹی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں، دریاؤں کے کنارے آباد دیہاتوں، آبادیوں میں پولیس کی پٹرولنگ بڑھا دی جائے۔