ڈینگی سے بچائو کیلئے سائنسدانوں نے مچھروں کو ٹیکے لگادئیے

ڈینگی سے بچائو کیلئے سائنسدانوں نے مچھروں کو ٹیکے لگادئیے

 سٹی 42: انسانوں کو ڈینگی سے بچانے کیلئے سائنسدانوں نے مچھروں کو ٹیکے لگادئیے۔بدبخت مچھر انسانوں کو ٹیکہ لگا کر ان میں ڈینگی وائرس منتقل کرتے تھے لیکن جیسے کو تیسا کے مصداق انڈونیشیاءمیں ماہرین نے مچھروں کو ٹیکے لگا کر ان میں ایسے بیکٹیریا داخل کر دیئے ہیں کہ ملک میں ڈینگی کا پھیلاﺅ رک گیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق انڈونیشیاکے شہر یوگیاکارتا میں واقع یونیورسٹی آف گیڈجامیڈا کے سائنسدانوں نے مچھروں میں ’Wolbachia‘ نامی بیکٹیریا داخل کیا جس نے مچھروں کی انسانوں میں ڈینگی وائرس منتقل کرنے کی صلاحیت ختم کر دی۔ 

رپورٹ کے مطابق ملک کے جن علاقوں میں مچھروں کو یہ ٹیکے لگائے گئے، ان علاقوں میں ڈینگی ہی نہیں بلکہ مچھروں سے پھیلنے والی تمام بیماریوں کے پھیلاﺅ کی شرح میں 77فیصد سے زائد کمی واقع ہو گئی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایدی اوتارینی کا کہنا تھا کہ ”یہ ایک بریک تھرو ہے۔ ہماری تحقیق سے جس قدر حوصلہ افزاءنتائج سامنے آئے ہیں، اس سے ڈینگی اور مچھروں سے پھیلنے والی تمام بیماریوں کے مکمل خاتمے کی ایک امید پیدا ہوگئی ہے۔“واضح رہے کہ سائنسدانوں نے تین سال کا عرصہ لگا کر مچھروں کو یہ ٹیکے لگائے ہیں، جنہیں بعد ازاں جکارتہ سمیت دیگر کئی شہروں کے مخصوص علاقوں میں چھوڑاگیا۔

ڈینگی کیسے پھیلتا ہے؟

پاکستان اور پوری دنیا میں ڈینگی پھیلانے والا مچھر ایڈیِز ایجپٹی ہے۔ دھبے دار جلد والا یہ مچھر پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے بعد ستمبر سے لے کر دسمبر تک موجود رہتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ مچھر 10 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت میں پرورش پاتا ہے اور اس سے کم یا زیادہ درجۂ حرارت میں مر جاتا ہے۔ ڈینگی مادہ مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ نر سے ملاپ کے مادہ کو انڈے دینے کے لیے پروٹین کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ یہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انسانی خون چوستی ہے جس سے ڈینگی کا انفیکشن پھیلتا ہے۔ایڈیِز ایجپٹی مچھر کے انڈوں اور لاروے کی پرورش صاف اور ساکت پانی میں ہوتی ہے جس کے لیے موافق ماحول عام گھروں کے اندر موجود ہوتا ہے۔