ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاق سے 5300 ارب روپے کرپشن کا حساب لیں گے,سہیل آفریدی کانیانعرہ

Suhail Afridi, Pakistani economy, governance , IMF Report,
کیپشن:  تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکا ہوں لیکن عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی، اب احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔ وزیراعلیٰ پختونخوا کی پشاور مین تقریر—(فائل فوٹو)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آج نیا نعرہ لگا دیا۔ انہوں نے کہا، ہم وفاق سے 5300 ارب روپے کرپشن کا حساب لیں گے۔
 سہیل آفریدی نے یہ دلچسپ نعرہ پشاور میں انصاف سٹوڈنتس فیڈریشن کے کارکنوں کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے لگایا۔
 
پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان کے وفاق  سے5300 ارب کی کرپشن کا حساب لینے کا نیا نعرہ لگا  تو دیا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ وفاقی حکومت سے حساب کس طرح لیں گے۔

سہیل آفریدی نے آج پشاور میں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تقریب  میں تقریر کی۔ اس تقریر میں سہیل آفریدی  نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی وفاقی حکومت میں پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ سہیل آفریدی نے اپنے اس الزام کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا بلکہ ثبوت کے طور پر آئی ایم ایف کا نام لیا اور کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ مین کہا گیا ہے کہ 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم وفاق سے  5300 ارب روپے کی کرپشن کا حساب لیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ انصاف ملتا تو پی ٹی آئی احتجاجی سیاست نہ کرتی۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے 9 مئی 2023 کو ریاستی اداروں، تنصیبات اور قومی وقار کی علامتوں پر منظم حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر پی ٹی آئی کا پرانا نیریٹیو دہرایا اور کہا،  9 مئی کے بعد جن لوگوں نے پریس کانفرنس کی وہ بری ہو گئے ،جو بانی کے ساتھ کھڑے تھے انہیں سزا دی گئی۔

سہیل آفریدی نے کہا،  یہ نظام بے نقاب ہوچکا ہے۔ 

اڈیالہ جیل میں قید کی سزا کاٹ رہے پی ٹی آئی کے بانی سے اپنی ملاقات نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا، میں تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکا ہوں لیکن بانی سے میری ملاقات نہیں ہوئی۔ اب ہمارے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔ ایک طرف وفاق ہمارا حق نہیں دے رہا کہ پیسے نہیں ہیں، دوسری طرف آئی ایم ایف چارج شیٹ دیتا ہے کہ 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ ہم نے 5300 ارب روپے کا حساب لینا ہے۔

سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کو این ایف سی میں اپنا حصہ نہیں دیا جا رہا، نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں2200 ارب روپے کے بقایاجات وفاق کے ذمہ ہیں۔

"5300  ارب روپے کی کرپشن" آئی ایم ایف نے واقعی چارج شیٹ کیا؟ حقیقت کیا ہے؟

گوگل کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹول سے یہ سوال پوچھا جائے تو وہ جواب دیتا ہے کہ آئی ایم ایف نے کبھی پاکستان کو کرپشن کے حوالے سے چارج شیٹ نہیں کیا، نہ ہی آئی ایم ایف نے "5300 ارب روپے کی کرپشن"  کی کوئی فگر کبھی پیش کی۔

 البتہ نومبر 2025 میں جاری کردہ آئی ایم ایف کے "گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک اسسمنٹ" کے مطابق، پاکستان اپنی جی ڈی پی کے 6% سے 6.5% سالانہ کے مساوی "اشرافیہ کی گرفت" میں کھو رہا ہے، جسے کچھ ذرائع نے تقریباً 5,300 ارب روپے بتایا ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کی رپورٹ ایک جامع تشخیص ہے نہ کہ قانونی لحاظ سے کوئی "چارج شیٹ"۔

آئی ایم ایف نے کرپشن کی ایک ہی مثال دی وہ عمران خان حکومت کی تھی

آئی ایم ایف کی اس رپورٹ میں جس کرپشن کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں واحد مثال پی ٹی آئی کے سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے بدنام شوگر ایکسپورٹ سکینڈل کی دی گئی ہے۔  خیبر پختونخوا میں ہو رہی کرپشن بھی شامل ہے جہاں عرصہ دراز سے پی ٹی آئی کی سیاسی اشرافیہ کا بلا شرکتِ غیرے اقتدار ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت پر کرپشن کے سنگین نوعیت کے الزامات لگتے رہے ہیں۔


آئی ایم ایف رپورٹ کے اہم نتائج
مسلسل بدعنوانی: IMF پاکستان کی گورننس میں بدعنوانی کو ایک "مسلسل اور تباہ کن" مسئلہ کے طور پر بیان کرتا ہے، جو عوامی فنڈز کو متاثر کرتا ہے، مارکیٹوں کو بگاڑتا ہے، اور عوامی اعتماد کو ختم کرتا ہے۔
اشرافیہ کی گرفت: آئی ایم ایف کی اس رپورٹ میں خاص طور پر "اشرافیہ کی گرفت" پر روشنی ڈالی گئی ہے جہاں آئی ایم ایف کے مطابق وسیع تر معیشت کی قیمت پر سیاسی اور کاروباری اشرافیہ کے ایک چھوٹے، طاقتور گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوامی پالیسیوں میں ہیرا پھیری ہوتی ہے۔
ادارہ جاتی کمزوریاں: یہ اہم ریاستی اداروں جیسے عدلیہ، بیوروکریسی بشمول فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور صوبائی حکومتین اور صوبائی ادارے، اور احتسابی اداروں کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے، جن میں یا تو آزادی کا فقدان ہے یا بڑے پیمانے پر بدعنوانی سے نمٹنے میں غیر موثر ثابت ہوئے ہیں۔
مخصوص مثالیں: رپورٹ میں 2019 شوگر ایکسپورٹ سکینڈل جیسے مخصوص کیسز کا حوالہ دیا گیا ہے، یہ واضح کرنے کے لیے کہ کس طرح منسلک اشرافیہ اپنے منافع کے لیے پالیسیوں میں ہیرا پھیری کر سکتے ہیں۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ 2019 میں پاکستان پر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی حکومت تھی اور خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتیں تھیں۔
سفارشات: IMF نے گورننس میں اصلاحات کے لیے 15 نکاتی ایجنڈا فراہم کیا اور اندازہ لگایا کہ ان مسائل کو حل کرنے سے پانچ سالوں میں جی ڈی پی میں 5-6.5 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔


کیا آئی ایم ایف رپورٹ ایک چارج شیٹ ہے؟
 "چارج شیٹ" ایک رسمی قانونی دستاویز ہے جو قانون نافذ کرنے والے ادارے کی طرف سے دائر کی جاتی ہے تاکہ کسی فرد یا ادارے کو جرم کے لیے مقدمہ چلایا جا سکے۔ چارج شیٹ کے برعکس آئی ایم ایف کی رپورٹ کسی ملک کی معاشی اور ادارہ جاتی صحت کا سرسری جائزہ ہ ہوتی ہے۔
قانونی حیثیت: IMF کی رپورٹ کا کوئی ادارہ یا شخصیت  قانونی پابند نہیں ہے اور یہ رسمی طور پر کسی مخصوص فرد پر فرد جرم عائد نہیں کرتی ہے یا اس کے نتیجے میں قانونی چارہ جوئی نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ ایک معاشی اور گورننس عمومی تجزیہ ہے جو پالیسی فیصلوں اور قرض دینے کی شرائط سے آگاہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
"چارج شیٹ" کے طور پر تشریح: پی ٹی آئی کے سیاست دانوں اور مبصرین، جیسا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، ان کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم اور پی ٹی آئی کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے، آئی ایم ایف کی رپورٹ کو  وفاقی حکومت کے خلاف اپنی مہم میں زور پیدا کرنے اور حکومت پر تنقید کرنے کے لیے "چارج شیٹ" قرار دیا ہے۔