سٹی42: اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران مزید 3 گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کی گئیں، دوران سماعت عمران خان اور دیگر ملزم بھی کمرہ عدالت میں حاضر تھے۔
روالپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
آج جمعرات کے روز کی سماعت میں 3 گواہ کانسٹیبل ظفر قیوم، محرر تھانہ آر اے بازار محمد منشی اور محرر عمران اپنی گواہیاں دینے کے لئے پیش ہوئے۔ عدالت نے ملزموں کی موجودگی مین تینوں گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کر لیں۔
مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد ریاض کی بھی شہادت ریکارڈ کی گئی تاہم یہ شہادت مکمل نہیں ہوئی۔
جی ایچ کیو راولپنڈی پر پی ٹی آئی کے شر پسندوں نے 9 مئی 2023 کو جو حلہ کیا تھا اس کے مقدمہ میں اب تک 31 گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔
سماعت کے دوران "مال مقدمہ" بھی عدالت پیش کیا گیا۔
آئندہ سماعت پر مزید گواہوں کی شہادتیں قلمبند کی جائیں گی، جن کے لیے گواہوں کو نوٹس کئے جاچکے ہیں۔
آج کی سماعت کے دوران ملزم عمران خان، عثمان ڈار،صداقت عباسی سمیت متعدد ملزمان کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
پس منظر
9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک بھر میں فوجی تنصیبات، دفاتر، قومی یافگاروں پر منظم حملے کئے گئے تھے، راولپنڈی میں کئی فوجی مقامات کے ساتھ مسلح افواج کے جنرل ہیڈکوارٹرز پر بھی شر پسندوں نے منظم حملہ کیا تھا جس سے عمارت کے گیٹ کو نقصان پہنچا، شر پسند اس قابلِ احترام ہیڈ کوارٹرز کے اندر گھس گئے اور پاکستان سے باہر بھی اس حملے کو پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان کی تضحیک اور مورال گرانے جیسے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا تھا۔
اس دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔
ان شر پسندوں نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جو تاریخی میوزیم جناح ہاؤس کے ایک پورشن میں ہے۔
ان منظم حملوں کے جواب مین مسلح افواج اور پولیس نے بہت زیادہ تحمل اور برداشت کے ساتھ صورتحال کو ہینڈل کیا تھا۔ اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف لوگوں کو حملوں کا حکم دینے، حملوں پر اکسانے کے مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔
گوجرانوالہ کینٹ کے گیٹ پر حملے کے ملزموں کا کیا بنا
گوجرانوالہ مین بھی شر پسندوں نے 9 مئی 2023 کو گوجرانوالہ کینٹ میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے منظم حملہ کر کے کینٹ کا داخلی دروازہ توڑ دیا تھا۔ 30 مارچ 2024 کو گوجرانوالہ کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ٹھوس دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر گوجرانوالہ چھاؤنی پر حملے سے متعلق کیس میں 51 مجرموں کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی۔
لاہور میں نو مئی دہشتگردی کے 60 مجرموں کو ملٹری کورٹ سے سزائیں
سپریم کورٹ کی ہدایت پر فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے 9 مئی 2023 کے سانحہ میں ملوث مزید ساٹھ افراد کو 26 دسمبر 2024 کو سزائیں سنائیں۔ ان سزا پانے والوں میں پرائم ملزم عمران خان کا بھانجا احسان اللہ نیازی بھی شامل ہے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان کے مطابق، قانونی اور آئینی تقاضوں کے مطابق کیے جانے والے ٹرائلز نے عدلیہ، حکومت اور مسلح افواج کے انصاف کو برقرار رکھنے کے عزم کو اجاگر کیا۔