لاک ڈاؤن:بھوک کے مارے انسان مردار کھانے پر مجبور

 لاک ڈاؤن:بھوک کے مارے انسان مردار کھانے پر مجبور

سٹی 42:   کورونا وائرس نے دنیا کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے ،وائرس اپنی تباہ کاریاں روکنے  کا نام نہیں لے رہا۔اب تک56 لاکھ  سے زائد کیس ہوچکے ہیں،مرنیوالوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ہے،جبکہ23لاکھ کے لگ بھگ صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔تمام ممالک نے اس کا پھیلائو روکنے کیلئے مختلف بندشیں لگا رکھی ہیں، فضائی آپریشن بند ہیں تو پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی ۔اب آہستہ آہستہ    لاک ڈائون میں نرمی کی جارہی ہے،لیکن بھارت میں صورتحال ابتر ہوچکی ہے۔

بھارت میں کورونا وائرس کے حوالے سے صورتحال خراب ہورہی ہے،اب تک بھارت میں  ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں،روزانہ پانچ ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہورہے ہیں،اموات کی تعداد  پانچ ہزار سے بڑھ چکی ہے،بلومبرگ کے مطابق  40سال میں پہلی مرتبہ بھارتی معیشت سکڑے گی، لاک ڈائون کی وجہ سے بھوک اور بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے،بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے باعث حکومت پر دبائو بڑھ رہا ہے۔

بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اگر وہ لاک ڈائون کا فیصلہ نہ کرتی تو 15 اپریل تک ملک میں 8 لاکھ 20وہزار افراد کورونا سے متاثر ہوجاتے۔پابندیوں کی وجہ سے کورونا کا پھیلائو کم ہوا ہے،بھارتی وزیر صحت کے مطابق لاک ڈائون کی وجہ سے کورونا پر قابو پانے میں مدد ملی۔شروع میں 2 دنوں میں کیس ڈبل ہورہے تھے اب 12 دنوں میں ڈبل ہورہے ہیں۔ بھارت کے ٹیسٹنگ پراسس پر بھی سوال اٹھ رہا ہے،کیا یہ درست بھی ہیں یا  غلط ہیں ،اب حکومت پر دبائو آرہا ہے کہ لاک ڈائون میں کمی کرے کیونکہ گزشتہ مہینے 12 کروڑ افراد کو نوکریوں سے نکال دیا گیا،اس کے علاوہ بھارتی کمپنیوں کی کارکردگی گزشتہ 10سال کے مقابلے میں بدترین ہوگئی ہے۔

صورتحال سے نمٹنے کیلئے بھارتی حکومت نے 265 ارب روپے کا پیکج دیا ہے تاکہ معیشت کو سہارا دیا جاسکے یہ بھارتی معیشت کا 10 فیصد ہے،امریکا کے  بعد سب سے بڑا امدادی پیکج ہے،معاشی نقصان کے ساتھ دیگر بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے،صرف بمبئی میں 20سے 25 فیصد افراد دیگر بیماریوں سے مرے ہیں،نیو یارک ٹائمز کے مطابق ممبئی کے ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں،ڈاکٹر ز کہتے ہیں  سب سے بڑی دشمن گنجان آبادی ہے،شہر میں کچی آبادیا ں پھیلی ہوئی ہیں،ایک ایک گھر میں 10 سے 12 افراد رہتے ہیں سماجی فاصلے کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔کچی آبادی میں کورونا پھیل رہا ہے۔

گارڈین کے مطابق  ایک فوٹیج کے  میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 6 لاشیں کورونا مریضوں کے ساتھ رکھی ہوئی ہیں۔یہ بھارتی کوششوں کو بے نقاب کررہی ہیں۔اس ویڈیو  سے بھارت میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے،اخبار بتاتا ہے کہ مردہ خانے بھر چکے ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ ایک شخص کو کورونا ہوا  ہسپتالوں میں جگہ نہ ہونے سے داخل نہیں کیا گیا،ایک ہسپتال میں جگہ ملی تو وہاں اس  کی موت ہوگئی۔

بھارت کورونا وائرس  کا مقابلہ کرنے بجائے مسلمانوں کیخلاف پراپیگنڈا پر لگا ہوا ہے،یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کورونا پھیلانے کی وجہ مسلمان ہیں۔سوشل میڈیا اور الیکرانک میڈیا پر  جعلی خبریں چلائی گئیں،اس کا اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے دکانوں سے لوگوں نے اشیا خریدنا چھوڑ دی ہیں۔احمد آباد کے ہسپتال میں مسلمانوں کیلئے علیحدہ وارڈ بنا دیا گیا۔

بھارت میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت کی مودی حکومت کورونا وبا کی صورتحال قابو کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق بھارت میں سخت ترین لاک ڈاؤن کے باوجودکورونا وائرس کے کیسز تیزی سے بڑھے ہیں۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان اور بنگلادیش میں کورونا کیسز  میں اتنا اضافہ نہیں دیکھا گیا۔

بھارت میں لاک ڈاؤن کے دوران بھوک و افلاس کا عالم دیکھ کر انسانیت شرما گئی، کوئی ننگے پیر سینکڑوں میل پیدل سفر کرکے گھر پہنچا تو کسی کو بھوک نے مردار کھانے پر مجبور کر دیا۔چلچلاتی دھوپ، تپتی زمین اور ننگے پیر میلوں کا سفر،  ایسے میں عورتوں اور بچوں کا بھی ساتھ ہو تو غربت کا کیا عالم ہوگا، لاک ڈاؤن میں مودی کی ناکام منصوبہ بندی نے غریبوں کو دربدر رلنے پر مجبور کر دیا۔

اس تمام تر صورتحال کے باوجود مودی سرکار غریبوں کی پروا کے بجائے ہندوتوا کے پرچار اور سرحدوں پر اشتعال انگیزی میں لگی ہوئی ہے۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے پردیس میں روزگار چھوٹا تو بے آسرا مزدوروں نے جیسے تیسے آبائی علاقوں کا رخ کیا، گود میں بچے لیے مائیں پیدل سفر کرتی نظر آئیں، کھانا پینا تو کیا ملتا یہ جہاں سے گزرے وہاں انہیں دھتکار دیا گیا۔

اس سے بھی بدتر یہ ہوا کہ راجستھان میں ایک شخص سڑک پر مردار جانور کا گوشت کھاتا دکھائی دیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ راستے سے گزرے ایک شخص نے مردار کھانے والے کو روکا اور کھانا پیش کیا۔ بھارت میں ان افسوس ناک واقعات کی وجہ بغیر منصوبہ بندی اچانک لاک ڈاؤن بنا، نریندر مودی نے لاک ڈاؤن لگاتے ہوئے معافی تو مانگی لیکن اس کے بعد غربیوں کو بھوکا مرنے پر چھوڑ دیا۔