ویب ڈیسک : حالیہ برسوں میں متعدد تحقیقی رپورٹس میں بتایا کہ لڑکوں اور لڑکیوں میں قبل از وقت بلوغت کی شرح بڑھی ہے، خاص طور پر کووڈ 19 کی وبا کے دوران، اب ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ قبل از وقت بلوغت کا سامنا کرنے والے بچوں میں مختلف ذہنی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
جرنل جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع تحقیق میں 65 لاکھ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 2010 سے 2023 کے درمیان اکٹھا کیا گیا تھا،تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ قبل از وقت بلوغت سے طویل المعیاد بنیادوں پر لوگوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق میں قبل از وقت بالغ ہونے والے 1094 افراد کی طبی ریکارڈز کا تجزیہ بھی کیا گیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے 91 فیصد سے زیادہ کیسز خواتین میں سامنے آئے اور 23 فیصد افراد موٹاپے کے شکار بھی ہوئے۔
اس طرح تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسے 24.7 فیصد بچوں میں آنے والے برسوں میں کم از کم ایک ذہنی مرض کی تشخیص ہوئی، تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور 7.5 امکان ہوتا ہے کہ وہ اس عام ترین ذہنی عارضے کا سامنا کریں گے۔
انزائٹی ڈس آرڈر کا مسئلہ بھی قبل از وقت بالغ ہونے والے افراد میں عام ہوتا ہے جبکہ زیادہ غصہ یا توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، محققین نے بتایا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں قبل از وقت بلوغت اور ذہنی امراض کے درمیان تعلق کو ثابت کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ یہ خطرہ صرف لڑکیوں میں ہی نہیں ہوتا بلکہ لڑکوں کو بھی ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ قبل از وقت بلوغت اور ذہنی امراض کے پیچھے چھپے حیاتیاتی اور جسمانی میکنزمز کا علم ہوسکے، اس سے قبل ستمبر 2023 میں ترکیہ کی غازی یونیورسٹی اور انقرہ بلقان سٹی ہاسپٹل کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اسمارٹ فونز یا ٹیبلیٹ جیسی ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی قبل از وقت بلوغت کا باعث بن سکتی ہے۔
اس تحقیق میں پہلی بار ڈیوائسز کی نیلی روشنی اور نر چوہوں میں قبل از وقت بلوغت کے درمیان تعلق کے بارے میں بتایا گیا، محققین نے کہا کہ ہم نے دریافت کیا کہ ڈیوائسز کی نیلی روشنی سے مخصوص ہارمونز کی سطح میں تبدیلی آتی ہے، ابھی ان نتائج کا اطلاق بچوں پر نہیں کیا جاسکتا مگر اسے خطرہ بڑھانے والا عنصر ضرور تصور کیا جانا چاہیے۔
اس تحقیق کے دوران 21 دن کی عمر کے 18 نر چوہوں کو شامل کیا گیا تھا جن کو 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو عام روشنی میں رکھا گیا، دوسرے گروپ کو روزانہ 6 گھنٹے تک نیلی روشنی کی زد میں رکھا گیا جبکہ تیسرے کو 12 گھنٹے تک نیلی روشنی میں رکھا گیا۔
محققین نے دریافت کیا کہ نیلی روشنی کی زد میں رہنے والے چوہوں میں قبل از وقت بلوغت کے آثار نمایاں ہوگئے، درحقیقت نیلی روشنی کا دورانیہ جتنا زیادہ ہوتا ہے، چوہوں میں بلوغت کا آغاز اتنی جلد ہوتا ہے۔