ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سلمان خان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش، دہلی ہائیکورٹ نے بڑا ریلیف دیدیا

سلمان خان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش، دہلی ہائیکورٹ نے بڑا ریلیف دیدیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:بھارت کی دہلی ہائیکورٹ نے بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘‘ کے پروڈیوسرز کو سخت حکم دیا ہے کہ وہ فلم کا ٹیزر اور اس سے متعلق تمام تشہیری مواد 24 گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘‘ کے پروڈیوسرز کو حکم دیا ہے کہ وہ فلم کا ٹیزر اور اس سے متعلق تمام تشہیری مواد 24گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر فلمساز حکم پر عمل نہ کریں تو  ایکس (X)  اور  یوٹیوب  سمیت متعلقہ پلیٹ فارمز کو مواد ہٹانے کی ہدایت دی جائے گی۔  اداکار سلمان خان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلم 1998 کے کالا ہرن شکار کیس سے متاثر دکھائی دیتی ہے اور اگرچہ ان کا نام نہیں لیا گیاہے لیکن ٹیزر میں ان سے مشابہ کردار اور ان کی شناخت سے جڑی علامات استعمال کرکے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 
سماعت کے دوران جسٹس جیوتی سنگھ نے ریمارکس دیے کہ کسی شخص کی شہرت برسوں کی محنت سے بنتی ہے اور اسے نقصان پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ایسا مواد چند گھنٹوں کیلئے بھی عوامی سطح پر موجود رہے تو اس سے متعلقہ شخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ مبینہ طور پر1998 کے کالا ہرن شکار کیس اور اس سے وابستہ تنازع پر مبنی ہے، تاہم فلم کے پروڈیوسرز کا مؤقف ہے کہ یہ سلمان خان کی بایوپک نہیں بلکہ عوامی ریکارڈ پر موجود واقعات سے متاثر ایک الگ کہانی ہے۔

بار اینڈ بینچ  کی رپورٹ کے مطابق سماعت کے دوران جسٹس سنگھ نے فلمسازوں سے سخت سوالات کیے اور تشہیری مواد کی نوعیت پر ناراضی ظاہر کی۔ جسٹس سنگھ نے پروڈیوسرز سے کہایہ کس قسم کا مواد ہے؟ لگتا ہے کہ آپ کو اس بات سے حوصلہ ملا ہے کہ پچھلی بار عدالت نے کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا۔ آپ کے مؤکل کو لگتا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہے۔ وہ دن بہ دن مزید آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ جب تک یہ مواد عوامی سطح پر موجود ہے، ہر لمحہ مدعی ( سلمان خان) کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ میں نے پہلے آپ کے ساتھ نرمی برتی تھی، لیکن آپ سدھرنے والے نہیں ہیں۔ آپ کسی عام آدمی کے ساتھ بھی ایسا نہیں کر سکتے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فارلیگیسی‘‘ کی کہانی ۱۹۹۸ء کے بلیک بک (کالا ہرن) شکار کیس ،  بشنوئی برادری  کی جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے طویل جدوجہد، اور سلمان خان و گینگسٹر لارنس بشنوئی سے جڑے تنازع سے متاثر بتائی جاتی ہے۔ فلم اس وقت تنازع کا شکار بن گئی جب اسکا  فرسٹ لک ٹیزر  12 جون کو جاری کیا گیا، جس پر یہ عبارت درج تھی: گرو جمبھیشور بھگوان اور بشنوئی برادری کے نام۔ 
فلم کے ٹیزر میں کاشف اقبال خان نے ایک ایسا کردار ادا کیا جو مبینہ طور پر سلمان خان سے مشابہت رکھتا ہے  جبکہ سینئر اداکار گووند نام دیو  بشنوئی برادری کی جانب سے انصاف کی جدوجہد کرنے والے وکیل کے کردار میں نظر آئے۔  گزشتہ ماہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب تجربہ کار اداکار گووند نام دیو نے عوامی طور پر فلم سے خود کو الگ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں فلم کے اصل موضوع سے لاعلم رکھا گیا تھا،انہوں نے کہاجیسے ہی میں نے ٹریلر دیکھا، میں حیران رہ گیا۔ فوراً سمجھ گیا کہ یہ وہ فلم نہیں ہے جس کی شوٹنگ میں نے کی تھی۔ ہمیں کبھی نہیں بتایا گیا تھا کہ سلمان خان سے مشابہ ایک کردار اس انداز میں پیش کیا جائے گا۔ ٹریلر دیکھتے ہی مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اندھیرے میں رکھا گیا اور استعمال کیا گیا۔ مجھے جو بتایا گیا تھا اور جو فلم بنائی گئی، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔