کورونا کی چوتھی لہر سے نمٹنے کے لیئے وسائل کی کمی

کورونا کی چوتھی لہر سے نمٹنے کے لیئے وسائل کی کمی
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:     پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال ایک مرتبہ پھر بگڑنے لگی ۔ گذشتہ دو روز سے ملک میں ایک مرتبہ پھر کورونا  کے چار ہزار سے زیادہ یومیہ مریض سامنے آ رہے ہیں۔

بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق  پاکستان میں کووڈ 19 کی چوتھی لہر کی وجہ وائرس کی ڈیلٹا قسم ہے جو دوسری اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن کورونا کی اس قسم کی تشخیص یعنی ’جینوم سیکوینسنگ‘ کے لیے حکومتی وسائل ناکافی ہیں۔  پاکستان میں کورونا ویکسین لگانے کی مہم فروری میں شروع ہوئی اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 70 فیصد ہدف میں سے صرف 7.5 فیصد افراد کو ویکسین لگائی جا سکی ہے۔          وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق کورونا کی اس قسم سے متاثرہ افراد کی اصل تعداد اس وقت تک معلوم کرنا ممکن نہیں جب تک بڑی تعداد میں لوگوں کی جینوم سیکوینسنگ نہ کر لی جائے لیکن 'سیکوینسنگ کرنا خاصا مہنگا کام ہے۔  ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں جینوم سیکوینسنگ جو کہ کورونا وائرس کی مختلف اقسام کی کھوج لگانے کا مخصوص ٹیسٹ ہوتا ہے، اس کے تحت ایک نمونے کو ٹیسٹ کرنے پر تقریباً 40 ہزار روپے سے 60 ہزار روپے تک کا خرچ آتا ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ نمونے کا حجم کتنا ہے اور اس کے لیے کون سے آلات استعمال ہونے ہیں۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق  صحت کے شعبے سے منسلک ایک سینیئر اہلکار نے  بتایا کہ ملک بھر میں صرف 9  لیبارٹریز ایسی ہیں جہاں اس قسم کی سیکوینسینگ کی جا سکتی ہے اور ان میں سے بھی صرف 4 سرکاری ہیں۔      ملک بھر میں اب تک کورونا وائرس کی ڈیلٹا قسم کا شکار افراد کی صحیح تعداد کا علم تو نہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق اب تک 100 سے زیادہ افراد میں کورونا کی ڈیلٹا قسم کی تشخیص ہو چکی ہے ۔ محکمہ صحت سندھ کے  ترجمان کا کہنا ہے کہ 'کورونا کی ڈیلٹا قسم کا شکار افراد کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے جن کی وسائل کی کمی کے باعث کھوج نہیں لگائی جا سکی۔ 

کورونا وائرس کی ڈیلٹا قسم کی پہلی مرتبہ تشخیص اکتوبر 2020 میں انڈیا میں ہوئی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک یہ تقریباً 100 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے جس کی بنا پر متعدد ممالک کو دوبارہ سے سفری و دیگر پابندیاں لگانی پڑیں۔  دوسری طرف مئی میں ڈبلیو ایچ او نے اسے 'باعث تشویش قسم' قرار دیا تھا کیونکہ یہ زیادہ تیزی اور مؤثر انداز سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق اس سے ایک دن قبل پاکستان کے 11 بڑے شہروں میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 5 فیصد سے زیادہ تھی جبکہ کراچی میں مثبت کیسز کی شرح 26.3 فیصد تھی۔ 27 جولائی کو پاکستان میں دو ماہ میں  سب سے زیادہ 4000 مثبت کیسز کی تشخیص ہوئی۔

 '