سٹی 42 : پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ حادثہ کے بعد ایک ایک منٹ کرب میں گزرا، لاہور جیسے شہر میں ایساواقعہ ناقابل برداشت ہے، ٹیپا، واسا سےذمہ داران کےنام کیوں نہیں ڈالے، گرفتارکیوں نہیں کیا ، متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سےایک کروڑ دلوایا جائے۔
داتا دربار کے قریب ماں اوربیٹی کےجاں بحق ہونےکے واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب کو بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ واقعے کی جگہ تعمیراتی کام جاری تھا، ریسکیو حکام نے بروقت کارروائی شروع کی، سیوریج لائن انتہائی اونچی ہے ،پانی کا بہاؤ بدلتا رہتا ہے۔ بتایا گیا کہ ماں بیٹی لاہور میں اپنے رشتہ داروں کے گھر آئے ہوئے تھے، حادثے سے قبل ماں بیٹی رکشے پر سوار ہورہے تھے ، جس جگہ حادثہ ہوا وہاں اندھیرا تھا ، حادثے کی جگہ پر لائٹ بھی نہیں تھی ، لائٹ ہوتی تو شاید سانحے کو روکا جاسکتا تھا، خاتون کے گرتے وقت رش کی وجہ سے کسی نے آواز نہیں سنی ، واقعے کی کوئی مجرمانہ شہادت نہیں ملی ، سائٹ پر موجود تمام لوگ واقعے کے ذمہ دار ہیں ، اس جگہ پر ایک نہیں کئی مین ہول کھلے ہوئے تھے۔ تعمیراتی کام کے دوران انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، ماں کی لاش کل اور بچی کی لاش آج ڈھونڈی گئی۔
پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ حادثہ کے بعد ایک ایک منٹ کرب میں گزرا، یہ مجرمانہ غفلت ہے، اےسی نےکبھی اس جگہ کادورہ ہی نہیں کیا، کنسٹرکشن سائٹ پر پارکنگ کا ہوناالارمنگ ہے، دنیابھرمیں کنسٹرکشن سائٹس پرحفاظتی اقدامات کئےجاتےہیں، تعمیراتی کام لوگوں کومارنےکےلیےنہیں ہوتے، کسی کوپرواہ نہیں تھی کہ مین ہول پرڈھکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ پرمیرادل انتہائی دکھی ہے، لڑکی کی فیملی کوچوربناکرتھانےلےگئے، سیف سٹی کیمرے،سی سی ٹی وی دیکھنےمیں کتنی دیرلگتی ہے، یہ راجن پور،لیہ کی نہیں لاہورکی بات ہورہی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ معاملےکارخ ایسےموڑدیاجیسےکچھ ہواہی نہیں، پینافلیکس لگاکرسائٹ بندکی گئی ، روشنی کاکوئی انتظام نہیں تھا، جنہوں نےاس سائٹ کوکھلاچھوڑاکیاان کےگھرمیں بچےنہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیپا، واسا سےذمہ داران کےنام کیوں نہیں ڈالے، گرفتارکیوں نہیں کیا ، متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سےایک کروڑ دلوایا جائے۔