ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سولر پینل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

سولر پینل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سامنے آگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  چین کی جانب سے ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے بعد عالمی سولرانڈسٹری میں قیمتوں میں اضافے کی نئی لہر آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سولر مارکیٹ پر بھی پڑیں گے۔ چین دنیا میں فوٹو وولٹائیک (PV) آلات کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے۔

جنوری 2026 میں چین کی وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ ٹیکسیشن ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا کہ فوٹو وولٹائیک مصنوعات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) کی برآمدی رعایتیں مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہیں، جو یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔ اس فیصلے کے تحت پی وی ماڈیولز پر دی جانے والی برآمدی رعایت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی، جبکہ بیٹری مصنوعات پر رعایتیں بتدریج کم کر کے 2027 تک ختم کر دی جائیں گی۔

صنعتی ماہرین کے مطابق اس اقدام نے پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی سپلائی چین پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف 9 فیصد برآمدی رعایت کے خاتمے سے ہی سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں اسی تناسب سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

شنگھائی میٹلز مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس پالیسی تبدیلی سے ایک معیاری 210R فوٹو وولٹائیک ماڈیول پر برآمدی منافع میں فی یونٹ 51 یوآن تک کمی آ سکتی ہے، جس کے باعث بیرونِ ملک خریداروں کو قیمتوں میں اضافے کا بوجھ منتقل کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک سینئر سولر تجزیہ کار کے مطابق، “یہ معمولی ایڈجسٹمنٹ نہیں بلکہ لاگت میں ایک بنیادی اور ساختی تبدیلی ہے۔”

پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاصی اہم ہے، جہاں بجلی کے بلند نرخوں اور مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث سولر توانائی کی تنصیبات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بڑی حد تک سولر ماڈیولز کی درآمد پر انحصار کرتا ہے، جن میں زیادہ تر چین سے آتے ہیں، جس کے باعث مقامی منصوبوں کی لاگت عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔

صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والے عوامل میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ حالیہ مہینوں میں پولی سیلیکون اور چاندی جیسی اہم اشیا کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھی ہیں۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق پولی سیلیکون کی قیمتوں میں ماہ بہ ماہ تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چاندی کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں، جس سے سولر ماڈیولز کی لاگت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں، بشمول بلومبرگ این ای ایف، کا کہنا ہے کہ چین کی اس پالیسی تبدیلی کا حجم مارکیٹ کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو معاہدوں پر نظرثانی اور قیمتوں میں رد و بدل کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی مینوفیکچررز پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ اپریل کے بعد سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں 9 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس صورتحال کے باعث عالمی خریدار اپریل کی ڈیڈ لائن سے قبل اپنی خریداری تیز کر رہے ہیں، کیونکہ اس تاریخ کے بعد بھیجی جانے والی کھیپیں موجودہ رعایتی نظام کی اہل نہیں ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق قلیل مدت میں برآمدات میں تیزی آ سکتی ہے، تاہم اس کے بعد قیمتیں بڑھنے اور طلب میں کمی کا امکان ہے۔

پاکستان کے سولر سیکٹر کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند ماہ انتہائی اہم ہوں گے۔ اگرچہ سولر توانائی اب بھی روایتی بجلی کے مقابلے میں نسبتاً سستی ہے، تاہم قیمتوں میں مسلسل اضافہ خاص طور پر قیمت کے لحاظ سے حساس صارفین کے لیے سولر اپنانے کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔