سٹی42: اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کو آج پروسٹیٹ گلینڈ نکالنے کے لئے سرجری سے گزرنا پڑے گا۔
یروشلم میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتوار کو ان کا پروسٹیٹ سرجری کر کے ہٹا دیا جائے گا۔
گزشتہ بدھ کو، نیتن یاہو کا یروشلم کے حداسہ ہسپتال میں معائنہ کیا گیا تھا ، جہاں ڈاکٹروں نے ان کے پیشاب کی نالی میں انفیکشن کا پتہ چلا یا جس کے نتیجے میں پروسٹیٹ بڑھ چکا تھا۔
نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس تشخیص کے بعد سے، نیتن یاہو اینٹی بائیوٹکس لے رہے ہیں، جس نے انفیکشن کا کامیابی سے علاج کیا ہے تاہم ڈاکٹروں کے فیصلے کے مطابق آج سرجری کر کے ان کا پروسٹیٹ گلینڈ نکال دیا جائے گا۔
نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ اتوار کو کابینہ کا اجلاس بھی ہوگا۔
نیتن یاہو ان دنوں داخلی سیاست میں سخت مخالفت اور عدالت میں کرپشن کے الزامات کے تحت عرصہ سے لٹکے ہوئے مقدمات کا سامنا کر رہےہیں جبکہ ایک روز پہلے اٹارنی جنرل نے ان کی بیگم سارہ کے خلاف نیتن یاہو کے کرپشن کیس میں گواہ کو دھمکانے کے معاملہ مین پولیس انویسٹی گیشن کا حکم دے دیا ہے۔
پروسٹیٹ گلینڈ نکالنے کے لئے سرجری
اس سرجری کے دوران، ایک سرجن جو کرے گا وہ مختصراً یوں ہے:
پیٹ کے نچلے حصے میں،ناف اور زیر ناف کی ہڈی کے درمیان ایک چیرا بنائیں گے۔ یہاں سے نشتر کے ساتھ پروسٹیٹ کو ہٹا دیں گے۔
مثانے کو پیشاب کی نالی سے دوبارہ جوڑیں گے۔
زخموں کے بھر جانے تک پیشاب کو مثانہ سے ہی نکالنے کے لیے مثانے میں ایک کیتھیٹر ڈالا جائے گا جو تب تک موجود رہے گا جب تک کہ یہ جگہ ٹھیک ہو جائے۔
یہ سرجری عام طور پر جنرل اینستھیزیا کے تحت کی جاتی ہے، لیکن ریڑھ کی ہڈی یا ایپیڈورل اینستھیزیا کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس پروسیجر میں دو گھنٹے لگتے ہیں.