تجزیہ:عمر اسلم | اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف تحریک اس وقت جاری ہےاورجہاں مختلف مقامات پرجلسوں کےبعدپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کےپلیٹ فارم سےحکومت کےخلاف اسلام آبادمیں یکم فروری سےلانگ مارچ کااعلان کردیاگیاہےوہیں حکومت کی جانب سےدعویٰ کیاجارہاہےکہ وہ اپوزیشن جماعتوں کےاتحادسےکسی قسم کےخوفزدہ نہیں ہیں ۔
دوسری جانب نائب صدرمسلم لیگ ن مریم نوازکوجہاں حکومتی وزراٹارگٹ کررہے ہیں وہیں حیرانگی کی بات تویہ ہےکہ اگروہ اپوزیشن اورخصوصاًمریم نوازسےخوفزدہ نہیں توپھراگروہ کسی بیکری پر رک جائیں توان کی چپل پراوراگرکسی تقریب میں ہاتھ میں گلاس لیےکھڑی ہوں توپھراس پرتنقیدکاانبارکیوں کرتےہیں اورصورتحال تویہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اگرحکومتی ایوان واقعی مریم نوازسےان کےجلسوں ریلیوں خطاب سےخوفزدہ نہیں ہیں توپھرشائدوہ اس کوموضوع بھی نہ بناتے تحریک کبھی بھی پہلےدن کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اس کووقت لگتاہےاورموجودہ حکومت کےحوالےسےاگربات کریں توڈھائی سال میں سیاسی انتقامی کاروائیوں کےعلاوہ عوام کودکھانےکےلیےان کےپاس ابھی تک کوئی اہم چیزموجودنہیں ہے۔
یہ اصل میں عمر و عیار کی زنبیل کا گلاس ہے۔ جھوٹ بولنے والی باجی کو یہ بتایا گیا ہے کہ اس کو پکڑ کر رکھیں گی تو ان کی عیاری پکڑی نہیں جائے گی۔ https://t.co/si2dZsBLcs
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) December 28, 2020
اگرمخالف کی چپلوں گلاس کوٹارگٹ کرناشروع کردیاجائےتوپھراسی سےاندازہ لگایاجاسکتاہےکہ حکومتی ایوان کس حدتک پریشان ہیں اوراگرپی ڈی ایم اورمریم نوازکی تحریک کی کامیابی کےحوالےسےبات کی جائےتوجس پرسب سےپہلےنائب صدرمسلم لیگ ن کی جانب سےتنقید کی جاتی تھی عاصم سلیم باجوہ پرتووہ آج اپنےعہدےپرموجودنہیں ہیں ۔کسی بھی سیاسی تحریک کی کامیابی کی کچھ منازل ہوتی ہیں پہلےدن ہی سارے ٹارگٹ حاصل نہیں کرلیےجاتےاگردیکھاجائےتواس وقت پی ڈی ایم کےلاہورسمیت تمام جلسوں میں عوام موجودرہی اورآب ائندہ فیزمیں مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی جائیں گئی جس کےبعد حکومت کےخلاف لانگ مارچ کاپلان مرتب کیاگیا۔
نائب صدرمسلم لیگ ن مریم نوازجب سےمتحرک ہوئی ہیں اس وقت سےمسلم لیگ ن نےجارحانہ حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے اورایک تاثریہ بھی پایاجاتاہےکہ کچھ رہنماوں کومریم نوازکی جارحانہ سوچ سےاختلاف ہے لیکن فیصلے میاں نوازشریف کی ہدایت پرہورہے ہیں موجودہ حکومت جب سےبرسراقتدارآئی ہے اورجس تبدیلی کےنعرےکےساتھ آئی تھی اس وقت کےحوالےسےاگرعوام کی بات کریں توآٹاسکینڈل،چینی سکینڈل جہاں عوام کےسامنےآچکے ہیں وہیں اشیائےخورونوش سےلےکربجلی،سوئی گیس کسی چیزکی بھی قیمت کاموازنہ دوہزاراٹھارہ میں حکومت سےقبل دیکھ لیں تو اس کی قیمت میں کئی گنااضافہ ہوچکاہے۔موجودہ دورمیں ادویات کااستعمال تقریبا ہرگھرمیں ہےاورکون نہیں جانتاکہ ادویات کی قیمتوں میں تین سوگناسےزائداضافہ ہوچکاہےآٹےکی قیمت کی توبات ہی نہ نائکریں کیونکہ جس کابھی حکمران ایکشن لےلیں اس کی قیمت کم ہوناتوتقریبانہ ممکن ہی ہوجاتاہے۔