ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

90 سالہ خاتون کا ہتک عزت مقدمہ 20 سال کیلئے ملتوی، 2046 میں سماعت ہوگی

90 سالہ خاتون کا ہتک عزت مقدمہ 20 سال کیلئے ملتوی، 2046 میں سماعت ہوگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بھارت کی بمبئے ہائیکورٹ نے ہتک عزت کے ایک کیس کی سماعت کے دوران تلخ ریمارکس دیئے ہیں۔ عدالت نے معاملے کو انا کی لڑائی قرار دیتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فریقین کے درمیان ’انا کی لڑائی‘ عدالتی نظام کو درہم برہم کر رہی ہے۔ جسٹس جتیندر ایس جین کی سنگل بنچ نے گزشتہ روز حکم دیا کہ اس معاملے کو آئندہ 20 سال تک سماعت کیلئے نہ لایا جائے اور اسے 2046 کے بعد سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ 90 سال کی خاتون تارینی بین اور 57 سال کے دھونی ڈیسائی نے 2017 میں کِلک راج بھنسالی اور دیگر کے خلاف دائر کیا تھا۔ مقدمہ 2015 میں ’شیام کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی‘ کی سالانہ جنرل میٹنگ کے دوران پیش آنے والے مبینہ واقعات سے متعلق ہے۔ درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے انہیں ذہنی اذیت اور تکلیف ہوئی جس کے عوض انہوں نے 20 کروڑ روپئے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
  بمبئے ہائیکورٹ کے جسٹس جتیندر ایس جین کہا کہ یہ ان معاملات میں سے ایک ہے جہاں زندگی کے آخری پڑاؤ پر فریقین کے درمیان انا کی لڑائی نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ اس سے عدالت ان معاملات کو نہیں دیکھ پاتی جنہیں واقعی ترجیح کی ضرورت ہوتی ہے۔ عدالت نے پہلے تجویز دی تھی کہ غیر مشروط معافی مانگ کر اس تنازعہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے نوٹ کیا کہ 90 سالہ مدعی اب بھی ہتک عزت کے مقدمے کی پیروی پر بضد ہے۔اس دوران عدالت نے واضح کیا کہ صرف ’سپر سینئر سٹیزن‘ ہونے کی وجہ سے اس معاملے کو ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔ اپنے حکم میں جج نے کہا کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا، سوائے اس کے کہ یہ معاملہ اگلے 20 سال تک نہ اٹھایا جائے، اسے 2046 کے بعدکیلئے مقرر کیا جائے۔