ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشان واپس لینے کے اختیار کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ،عدالت نے لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کر دی۔
جسٹس سلطان تنویر احمد نے ایڈووکیٹ سلمیٰ ریاض کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ کیس میں آئینی نکات شامل ہیں، اس لیے اسے لارجر بینچ کے سامنے سنا جانا چاہیے۔ عدالت نے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی ہے تاکہ مناسب بینچ تشکیل دیا جا سکے۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار غیر آئینی ہے۔ سیاسی جماعت بنانا اور انتخابات میں حصہ لینا آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت بنیادی حق ہے جبکہ انتخابی نشان چھیننا کسی جماعت کی سیاسی شناخت ختم کرنے کے مترادف ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں جو کسی سیاسی جماعت کو اس انداز میں نااہل قرار دے سکے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ کیس کے حتمی فیصلے تک الیکشن کمیشن کو کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف تادیبی کارروائی سے روکا جائے۔