ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان نے بھارت کی پاکستان میں دہشتگردی کو سپانسر کرنے  کے متعلق حقائق دنیا کے سامنے رکھ دیئے

 پاکستان نے بھارت کی پاکستان میں دہشتگردی کو سپانسر کرنے  کے متعلق حقائق دنیا کے سامنے رکھ دیئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کی پاکستان میں دہشتگردی کو سپانسر کرنے  کے متعلق حقائق دنیا کے سامنے رکھ دیئے۔

 آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل  لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے آج اسلام آباد میں نہایت اہم پریس بریفنگ میں انکشاف کیا کہ 25اپریل کو بھارتی دہشت گرد عبدالمجید کو گرفتار کیا گیا۔ دہشت گرد عبدالمجید کے گھر سے بھارتی ساختہ ڈرون اور 10 لاکھ روپے برآمد ہوئے۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو اسپانسر کررہا ہے۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت دہشتگردی  خود کر رہا ہے اور اپنی دہشتگردی  پر پردہ ڈالنے کے لئے  فالس آپریشن کر کے پاکستان پر بھارت پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔ :

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا  پہلگام واقعے کو 7 دن ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک الزامات کے کوئی ثبوت نہیں پیش کیےگئے، سات دن ہو گئے ہیں اور وہاں صرف زبانی جمع خرچ چل رہا ہے، ہم آپ کے سامنے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے مکمل ثبوت پیش کر رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی نیوز کانفرنس میں بھارت کے پاکستان کے اندر دہشتگردی کروانے میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت پیش کر دیئے۔ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ  انڈین ہینڈلر کی واٹس ایپ چیٹ بھی پکڑی گئی ، موبائل ڈیٹا کا فرانزک جاری ہے۔

جنرل احمد شریف نے بتایا کہ  بھارت خود ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے،25  اپریل کو بھارتی تربیت یافتہ دہشت گرد عبدالمجیدکو جہلم کے قریب بس اڈے سے پکڑا گیا، گرفتار ملزم سے ڈھائی کلو گرام وزنی بم برآمد ہوا، اس کےگھر سے انڈین ساختہ ڈرون اور دس لاکھ روپے برآمد ہوئے، اس دہشت گردکا ہینڈلر بھارت کا ایک فوجی ہے، اس ہینڈلر کی گرفتار ہونے والے دہشت گرد سےگفتگو بھی سامنے آئی ہے، دہشت گردکے موبائل فون سے بھارت میں ہوئی بات چیت پکڑی گئی، اس کی کمیونیکیشن بھارت میں صوبیدار  سکھویندر سے ہو رہی تھی۔

میجر جنرل  احمد شریف نے بھارتی فوج کے میجر سندیپ، صوبیدار سکھویندر  اور بھارت کے   ایجنٹ حمید کے باہمی رابطہ کی کئی آڈیو ریکارڈنگز اپنی نیوز کانفرنس میں پیش کیں۔

 جنرل احمد شریف نے  ایک آڈیو میڈیا کے نمائندوں کو سنوائی جس میں پاکستان کے اندر ایک مصروف بس ٹرمینل پر دہشت گردی کرنے کے منصوبے کو ڈسکس کیا جا رہا تھا۔  جنرل احمد شریف نے کہا کہ دیکھیئے کس طرح بھارتی فوج کا کمیشنڈ آفیسر   پاکستان کے بس اڈے پر دہشتگردی کرنے کے منصوبہ کو ڈسکس کر رہا ہے۔

دہشتگرد عبدالمجید کو پاکستان کے شہر جہلم کے بس اڈے پر بارودی مواد کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ 

 وہ دہشتگردی کو بلوچستان سے لاہور  تک لا رہے ہیں۔

 جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا،   یہ کام کروا رہی ہے بھارتی حکومت۔

انہوں نے بتایا کہ  بھارتی فوج کے  صوبیدار  نے  عبدالحمید دہشتگرد کو   برنالہ ڈسٹرکٹ میں  ایک لوکیشن دی، یہ رابطہ بھی سوشل میڈیا کی ایپلی کیشن واٹس ایپ کے ذریعے ہوا۔ اس رابطے میں بھارتی فوجی  اس ایجنٹ کو کہتا ہے کہ "یہ لوکیشن ہے وہاں پہ اپ کو ایک آئی ڈی  ( استعمال کے لئے تیار شدہ دھماکہ خیز مواد)ملے گی۔  کیونکہ کہیں اور بندہ اس کے لیے کام کر رہا ہے جو کہ وہاں پہ آئی ڈی کو ڈلیور کر کے وہاں ڈیڈ ڈراپ کرتا ہے کہ یہاں جاؤ یہ اسے لوکیشن بھیجتا ہے،  یہ اس کو تصویر بھیجتا ہے کہ یہ میں نے یہ آئی ڈی تھی، وہاں پہ،  میں نے کلیکٹ کر لی ہے۔   ویب سائٹ لوکیشن بھیج رہا ہے اور وہاں پہ وہ اپنے ریکارڈ میں اس نے موبائل پہ رکھی ہوئی ہے کہ یہ میں نے اس کی تصویر دی آئی ڈی آنی ہے۔ یہ ائی ڈی ہے ۔  کنفرم۔ 

 اب آگے کیا ہوتا ہے ، آگے آ  جائیے۔۔۔  13 اکتوبر (2024) کو فرسٹ آئی ڈی جو ریسیو کی ہے وہ آئی ڈی بلاسٹ کرتا ہے,  پیر کانٹی ڈسٹرکٹ  باغ میں ایک فوجی گاڑی پہ ۔ اس حملے میں ہماری فوج کے آپ کی فوج کے جوان شدید زخمی ہوتے ہیں۔  اور اس کے بعد اس کو یہ پیمنٹ ہوئی ایک لاکھ 80 ہزار روپیہ  پاک روپیز  اس دہشتگرد کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر  ہوئے۔

 جنرل احمد شریف نے بتایا کہ  دہشتگردی کے اکاؤنٹ میں جو فائننشل ٹرانزیکشن ہو رہی ہے، وہ  موبائل کے ذریعے ایز ی پیسہ سے ہوئی، اس انڈین فوجی نے بتایا کہ یہ ٹپن پارٹس میں میں کروں گا تو کہیں پہ اس کو وہ دے رہا ہے 50 ہزار روپے،  کہیں پہ 15 ہزار ، 20 ڈفرنٹ ٹرمز میں ان ٹوٹل اس دہشتگرد ایجنٹ  کو ایک لاکھ 80 ہزار روپیہ وہ چار پانچ ٹرانزیکشن کے ذریعے بھیجتا ہے، جو دینا تھا اس اماؤنٹ کی ٹرانزیکشن پوری کرتا ہے۔

دہشتگردی کی کارروائی  13 اکتوبر کو  ہوئی۔ انڈین آرمی کی فراہم کی ہوئی آئی ڈی سے وہ اٹیک کرتا ہے اور 18 اکتوبر کو اس کو پہلی پیمنٹ ہوتی ہ۔

جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید بتایا کہ اس دہشتگرد ایجنٹ کو  دوبارہ نومبر  2024 میں استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد  نومبر۔۔۔  نومبر کو یاد رکھیں ،  بائیس نومبر کو اس سے لوکیشن شئیر کی گئی۔ یہ ہیڈ مرالہ کے علاقہ کی لوکیشن  تھی۔  جنرل احمد شریف نے بتایا کہ اس مرتبہ اس دہشتگرد ایجنٹ کو دھماکہ خیز مواد پہنچانے کے لئے جو ڈرون استعمال ہوا وہ دھماکہ خیز مواد پہنچانے کے دوران نیچے اتر گیا۔ یہ ڈرون ہی دہشتگرد ایجنٹ کے گھر سے برآمد ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشتگرد نے وہ  ڈرون جونسا ہے وہ اس کو ریکور کر کے لے ا تو اگے چلیے اور 8 ایت نمبر مزید جو ٹیررسٹ ہے یہ دہشت گرد جو انڈیا کے انڈین سپانسر ڈ ٹرینڈ ٹیررسٹ ہے  اس نے جلالپور جٹاں کے علاقہ میں ڈرون کے ذریعہ فراہم کئے گئے دھماکہ خیز مواد کو  آرمی کی ایک گاڑی پر حملہ کے لئے استعمال کیا۔ آرمی کی وہیکل جلالپور جٹاں چونکہ آتی ہے، وہ فوجی گاڑی حملہ کا شکار ہوئی تو  چار جوان نشانہ بنے۔

 میجر سندیپ نے اعتراف کیا ہےکہ وہ بلوچستان سے لاہور تک دہشت گردی کر رہے ہیں۔ 22 نومبر کو سکھویندر نے بم کے حصول کے لیے عبدالمجید کو ہیڈ مرالہ کے قریب جگہ کی نشاندہی کی، دہشت گرد نے اس جگہ سے تباہ شدہ ڈرون اور آئی ای ڈی حاصل کی ، 30نومبر کو اس نے جلالپور جٹاں میں آئی ای ڈی فوجی گاڑی پر لگائی جس سے چار شہادتیں ہوئیں، دہشت گرد نے ٹاسک مکمل ہونے پر 6 لاکھ 56 ہزار  روپے حاصل کیے۔

 گرفتار شخص کی کمیونیکیشن بھارت میں صوبیدار سکھویندر سے ہورہی تھی، اس کمیونیکشن میں چار بھارتی آرمی افسران کی نشاندہی کی گئی ہے، ان بھارتی فوجی افسران میں میجر سندیپ ورما،صوبیدار سکھویندر، حوالدار امیت اور ایک سپاہی شامل ہے، بھارتی ہینڈلر ان دہشت گردوں سے کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں شہریوں کی لاشیں چاہییں، پاکستان میں کارروائی کرو تاکہ دنیا کو بتایا جائےکہ یہاں دہشت گردی ہے،بھارتی ہینڈلرز دہشت گردوں کو بم بنانے کے طریقے پر مشتمل ویڈیوز بھیجتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ  سکھویندر نے 18 مارچ کو کوٹلی کے قریب آئی ای ڈی کی لوکیشن فراہم کی، 19مارچ کو کوٹلی کے قریب اس مشکوک بیگ کی اسکول کے بچوں نے نشاندہی کی، آرمی یونٹ نے کوٹلی کے قریب مشکوک بیگ سے بم برآمد کیا، کوٹلی میں بم کی برآمدگی پر بھارتی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں 5 بم برآمد ہونےکا جھوٹا پروپیگنڈا کیا،  22 اپریل2025 کو سکھویندر نے ندالہ کے قریب آئی ای ڈی کی ڈیلیوری کی، 23 اپریل کو سکھویندر نے دہشت گرد عبدالمجید کو بس اسٹینڈ پر بم حملے کا ٹاسک دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت پاکستان میں شہریوں اور فوج پر حملوں کے لیے دہشت گردوں کو بارود بھی فراہم کر رہا ہے، یہ آئی ای ڈیز ڈرون کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں، یہ بھارتی دہشت گردی کا صرف ایک ثبوت ہے۔