ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکہ ایران امن مذاکرات تعطل کا شکار ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکہ ایران امن مذاکرات تعطل کا شکار ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ قیمتوں میں یہ اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق امن تجویز مسترد کیے جانے کے بعد ہوا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے کے خدشات بڑھ گئے۔

عالمی بینچ مارک برینٹ خام تیل کی قیمت 1.32 ڈالر یا 1.27 فیصد اضافے کے بعد 106.50 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 70 سینٹ یا 0.76 فیصد بڑھ کر 93.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امن کی تجویز پیش کی تھی۔ ایران کے مطابق یہ تجویز قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی۔ ٹرمپ نے ہفتے کے روز تجویز مسترد کرنے کی تصدیق کی، تاہم اتوار کو Axios کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید بات چیت میں شریک ہوسکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں جغرافیائی سیاسی خطرات اب بھی موجود ہیں، کیونکہ حوثیوں اور ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں تیل کی ترسیل اور عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے ہفتے کی صبح دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز کو روک دیا گیا۔

گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، تاہم WTI کی قیمت 7.9 فیصد کم ہوگئی۔ WTI میں کمی کی بڑی وجہ یہ خدشہ تھا کہ امریکا ریکارڈ بلند قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ڈیزل کی برآمدات محدود کرسکتا ہے، جس سے ملک میں ریفائننگ سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا رہا ہے، جبکہ امریکی ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کی بحث بھی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ
دوسری جانب Kpler کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے ستمبر میں خام تیل کی برآمدات بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے بھی تیل کی ترسیل میں بحالی ہوئی ہے اور رواں ماہ اس کی مقدار تقریباً 7.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

سعودی عرب نے حملوں کے باعث اپنی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے بعد ریڈ سی کی بندرگاہ ینبع کے بجائے مشرقی ساحل پر واقع راس تنورہ بندرگاہ سے تیل کی برآمدات میں اضافہ کردیا ہے۔