سٹی42: غریب گھرانوں کی نوجوان بیٹیوں کا جنسی استحصال کرنے کے شوقین مذہبی رہنما کو ہتھکڑی لگ گئی۔ پولیس نے مذہبی تقدس کی نقاب اوڑھ کر درندگی کرنے والے نام نہاد رہنما کو ہوٹیل سے گرفتار کر لیا۔
سوامی چیتنیانند سرسوتی پر بہت سی سٹوڈنٹ لڑکیوں نے جنسی استحصال کرنے، ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے کے الزام لگائے تھے، پولیس نے تحقیقات کیں اور آج چیتنیانند سرسوتی کو گرفتار کر لیا۔ جنسی استحصال کے الزامات کی سنجیدہ تحقیقات ہوتے دیکھ کر سوامی چیتن یانند آگرہ کے ایک ہوٹل میں روپوش ہو گیا تھا۔ دہلی پولیس نے آگرہ جا کر ملزم کو ایک ہوٹیل کے کمرے سے قابو کر لیا۔
پولیس کے مطابق طالبات سے جنسی استحصال کے ملزم سوامی چیتنیانند سرسوتی کی گرفتاری گزری رات تقریباً 3.30 بجے ایک ہوٹل سے کی گئی ہے۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے آگرہ میں چھپا ہوا تھا۔
دہلی کے ایک پرائیویٹ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں غریب گھرانوں کی طالبات کے ساتھ جنسی استحصال کے معاملے کے انکشاف کے بعد سے فرار ہو جانے والے ملزم سوامی چیتنیانند سرسوتی کو گرفتار کر لئے جانے کی خبر بھارتی میڈیا میں ہیڈ لائنز بنا رہی ہے۔
اس کی گرفتاری آگرہ سے ہوئی ہے۔ طالبات کے سنگین الزام کے بعد سے ہی پولیس ملزم سوامی چیتنیانند کی تلاش میں لگ گئی تھی۔
جنسی درندے کو اس کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے زیر استعمال فون کی آخری لوکیشن آگرہ میں ملی تھی جس کے بعد سے پولیس آگرہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں تلاشی مہم چلا رہی تھی۔
دہلی پولیس کے مطابق طالبات سے جنسی استحصال کے ملزم سوامی چیتنیانند سرسوتی کی گرفتاری گزری رات تقریباً 3.30 بجے ایک ہوٹل سے کی گئی ہے۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے آگرہ میں چھپا ہوا تھا۔ اس سے معاملے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور اس کا میڈیکل ایگزیمینیشن کرایا جا رہا ہے۔
سوامی چیتیانند سرسوتی ایک پرائیویٹ مینیجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کا کرتا دھرتا ہے ۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں کمزور طبقوں کی لڑکیوں کو سکالر شپ اور فیس میں رعایات کے ساتھ داخلہ دیا جاتا ہے اور بعد میں انسٹی ٹیوٹ کا کرتا دھرتا ان کا جنسی استحصال کرنے کی منظم کوششیں کرتا ہے۔ بہت سی لڑکیاں اس درندے کے جال میں پھنس گئیں، بہت سی لڑکیوں کو انکار کی سزا دی جاتی رہی، آخر ایک لڑکی شکایت لے کر دہلی پولیس تک پہنچ گئی۔
اقتصادی طور سے کمزور طبقہ (ای ڈبلیو ایس) کے کوٹے سے مینیجمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں پڑھنے والی ایک طالبہ نے مارچ 2025 میں شکایت درج کرائی تھی جس میں اس نے الزام لگایا تھا کہ 60,000 روپے کا چندہ دینے کے باوجود اس سے اضافی رقم مانگی گئی تھی۔ جنوب-مغربی دہلی واقع مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے سابق سربراہ چیتنیانند (62) نے انسٹی ٹیوٹ کے اندر اپنے وفاداروں کا ایک نیٹ ورک بنایا ہوا تھا اور انہیں ایسے عہدوں پر تقرر کیا تھا جس کے لیے وہ اہل بھی نہیں تھے۔
چیتنیانند نے طالبہ سے کہا تھا کہ یا تو وہ 60,000 روپے دے یا ایک سال تک انسٹی ٹیوٹ میں بغیر تنخواہ کے کام کرے یا پھر کالج چھوڑ دے۔ چیتیانند اس طرح سے دباؤ ڈال کر اس سٹوڈنٹ کو جنسی تعلق کی طرف لا رہا تھا۔
پرائیویٹ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ نے بتایا کہ 30 سے زیادہ طالبات کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ میں کئی طالبہ نے چیتنیانند کے ذریعہ جنسی استحصال، چھیڑ چھاڑ اور دھمکیوں کے بارے میں بتایا، جس کے بعد 4 اگست کو چیتنیانند کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
سوامی چیتنیانند پر الزام ہے کہ وہ انسٹی ٹیوٹ کی سٹوڈنٹس کو دیر رات اپنے کوارٹر میں آنے کے لیےمجبور کرتا تھا اور اپنے بیڈ روم تک نہیں آنے والی سٹوڈنٹس کو فیل کرنے کی دھمکی بھی دیتا تھا۔
ساتھ ہی اس نے کئی خواتین کو بھی اپنی ٹیم میں رکھا تھا جو کالج طالبات کی چَیٹ ڈیلیٹ کرواتی تھیں۔ پولیس کو چَیٹ ڈیلیٹ کرانے کے ثبوت بھی ہاتھ لگے ہیں۔ چیتنیانند طالبات کو لندن گھمانے کا بھی لالچ دیتا تھا۔ طالبات سے کہتا تھا کہ تم لوگوں کو لندن لے جاؤں گا اور تمہیں پیسے بھی نہیں خرچ کرنے پڑیں گے۔
اپنے گھناونے جنسی استحصال کے دھندے کا بھانڈٓ پھوٹنے کے بعد چیتنیانند نے دہلی کی ایک عدالت میں اپنے اوپر لگے الزامات کو لے کر ضمانت کیلئے درخواست دائر کروائی تھی لیکن جمعہ کو عدالت نے عبوری ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی۔ ایڈیشنل سیشن جج ہردیپ کور نے کہا تھا کہ الزامات کی جانچ ابھی شروعاتی مرحلے میں ہے اور پولیس کو ’دھوکہ دہی، سازش اور رقم کے غیر ضروری استعمال کے ریکٹ کا پتہ لگانے کے لیے ملزم کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنا ضروری ہے۔
اس کے بعد سے پولیس سرگرمی سے چیتنیانند کو تلاش کر رہی تھی۔ اس کے ساتھ لڑکیوں کے جنسی استحصال میں شامل دوسرے کارندوں کی گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔