ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں آج پہلی بار پاکستان اور بھارت کا فائنل

ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں آج پہلی بار پاکستان اور بھارت کا فائنل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  ایشیا کپ 2025 کے فائنل میچ کا وقت آن پہنچا، روایتی حریف پاکستان اور بھارت آج شام 7 بج کر 30 منٹ پر دبئی اسٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوں گے۔  اس تاریخی مقابلے کے لیے اسٹیڈیم کی 28 ہزار نشستیں مکمل طور پر فروخت ہو چکی ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ 41 سال بعد دونوں ٹیمیں کسی فائنل مقابلے میں آمنے سامنے آ رہی ہیں۔ بھارتی ٹیم سوریا کمار کی قیادت میں طاقتور بیٹنگ لائن اپ پر انحصار کر رہی ہے جبکہ پاکستانی شاہین اپنی تباہ کن باؤلنگ کے ذریعے حریف کو پچھاڑنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

فخر زمان، صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب سے تیز رفتاری سے رنز بنانے کی توقع ہے اور دبئی میں چھکوں کی گونج کے ساتھ پاکستان بھر میں جوش و خروش عروج پر ہے۔

شائقین کرکٹ نے قومی ٹیم کے لیے نیک تمناؤں کے پیغامات بھیجے ہیں اور امید ظاہر کی ہے کہ ٹیم گزشتہ شکستوں کو بھلا کر آج کے میچ پر توجہ مرکوز کرے گی۔ بعض شائقین کی امیدیں فخر اور صائم سے وابستہ ہیں، تو کچھ شاہین آفریدی اور حارث رؤف سے شاندار کارکردگی کے متمنی ہیں۔

گرین شرٹس نے فائنل سے قبل دبئی میں آئی سی سی اکیڈمی میں سخت ٹریننگ کی، جہاں بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ کی خصوصی پریکٹس کی گئی۔ کوچز نے نیٹ سیشنز کے دوران کھلاڑیوں کو بھرپور مشق کروائی۔

دوسری جانب، بھارت کے غیر دوستانہ رویے پر ایک بار پھر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی ٹیم کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحے سے انکار کے بعد فوٹوشوٹ بھی ملتوی کر دیا گیا ہے جس پر شائقین نے سخت ردعمل دیا ہے اور بھارت کے رویے کو ضد اور ہٹ دھرمی قرار دیا ہے۔

پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کا واحد ہدف ایشیا کپ جیتنا اور ٹرافی اٹھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوٹوشوٹ کے لیے مکمل تیار تھے، باقی فیصلہ بھارتی کپتان کا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی ایسا میچ نہیں دیکھا جہاں دونوں ٹیموں نے مصافحے سے انکار کیا ہو، اور بھارتی میڈیا کی رپورٹس کو غیر اہم اور گمراہ کن قرار دیا۔ پاکستان کی فائنل الیون کا اعلان آج شام پچ کی حالت دیکھ کر کیا جائے گا۔

ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی نے فائنل پر جوش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کا ٹورنامنٹ غیر معمولی کارکردگی اور جوش و جذبے سے بھرپور رہا ہے۔انہوں نے شائقین کے جذبے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک یادگار مقابلہ دیکھنے اور ٹرافی دینے کے منتظر ہیں۔