وزیرجیل، سپرنٹنڈنٹ جیل کوٹ لکھپت کا تنازع، ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ


 علی ساہی: صوبائی وزیر کوٹ لکھپت جیل کے دورہ کیخلاف سپرنٹنڈنٹ کی درخواست پر ائی جی جیل سے رپورٹ طلب۔   وزیرجیل نے جیمرز آن ہونے، قیدیوں سے رشوت، روٹی کے وزن کے کم ہونے کا انکشاف کردیا۔ جیل انتظامیہ کا کہنا ہےکہ صوبائی وزیراقلیتی امورنے ایک روزقبل دورہ میں اچھے انتظامات پرماڈل جیل قراردیا ہے۔

سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کی وزیرجیل خانہ جات کیخلاف درخواست کے بعد مزید انکشافات سامنے آئے ہیں کہ صوبائی وزیررات سوا3 بجے سے صبح11 بجے تک جیل میں موجود رہے۔ جیل ملازمین سے وائرلیس اورموبائل فونز بھی چھین لئے گئے۔ کنٹرول روم پررات 3:15 سے11 بجے دن تک کوئی پیغام موصول نہ ہوسکا۔ جبکہ صوبائی وزی رکساتھ آئےافراد نے جیل کا انتظام سنبھالے رکھا۔ صوبائی وزیرکوئی بات بتائے بغیر 11 بجے جیل سے روانہ ہوئے جس پرسیکرٹری داخلہ نےآئی جی جیل خانہ جات سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

صوبائی وزیرجیل زوارحسین وڑائچ کی جانب سے دو روز بعد موقف اور تصاویر سامنے آئیں کہ 69  قیدیوں میں سے29  کام پرباقی سورہے تھے۔ قیدیوں کی روٹی کا پیڑا150 گرام تھا جو200 گرام ہونا چاہیے۔موبائل سروس رات2 بج کر55 منٹ پرچل رہی تھی جس کوصبح4 بج کر 9 منٹ پربند کیا گیا۔ قانون کےمطابق موبائل سروس24 گھنٹے بندرہنی چاہیے۔

عام قیدیوں کوبھی ہائی سکیورٹی سیل میں رکھا گیا تھا۔ قیدیوں نےسپرنٹنڈنٹ جیل کوماہانہ رشوت دینےکا بھی انکشاف کیا جبکہ سبزی کے بجائے صرف آلو دئیے جاتے ہیں اور انچارج ڈیوٹی افسرمحمد یوسف نے سارا حال میرے ساتھ دیکھا۔جیل حکام کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے جیمرز بند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ روٹی اور پیڑا قیدی ہی بناتے ہیں۔ ایک شفٹ میں 69 قیدی ڈیوٹی پرموجود تھےجوچارچار گھنٹے کام کرتے ہیں اس لئے ڈیوٹی والے قیدی کام پرموجودتھے۔

جیل انتظامیہ کے مطابق ایک روزقبل وزیراقلیتی امورنے وزیٹربک میں جیل کوماڈل جیل قراردیا تھا۔سپرنٹنڈنٹ کی درخواست کے مطابق صوبائی وزیرنے رات کوچھاپہ کے دوران جیل رولزکی خلاف ورزی کی ہے اگرافسران یا انتظامیہ کے خلاف شکایات موصول ہورہی تھیں تواعلی افسران کو ساتھ لے کر کاروائی کرنی چاہیے تھی۔

Shazia Bashir

Content Writer